تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 201 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 201

تصدیق براہین احمدیہ ۲۰۱ مکذب نے صفحہ نمبر ۷۴ تکذیب میں سورہ نجم کے حوالہ سے یہ لغو فقرہ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرتجي۔اعتراض کرنے کو لکھا ہے اسلام کے مختلف فرقے دنیا میں موجود ہیں۔سب کے پاس قرآن ہے مگر تعجب ہے کہ کسی میں یہ موجود نہیں اور ہو کیسے قرآن کریم کی شان اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ اس مجموعہ توحید میں ایسا مشرکانہ مضمون ہو اب حقیقت میں قرآن پر کوئی اعتراض نہ رہا۔مکذب فٹ نوٹ میں۔مفصل حال اس کا معالم جلالین بیضاوی معتمد میں ذکر ہے۔“ مصدق نے ان تفاسیر کی طرف رجوع کیا۔مگر ان میں یہ لکھا پایا جو ناظرین کے عرض خدمت ہے۔بیضاوی نے اس واہی قصہ کو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ تِلْكَ الْغَرَانِيقُ العلی الخ پڑھا تھا لکھ کر کہا ہے وَهُوَ مَردُودٌ عِندَ الْمُحَقِّقِینَ۔اور یہی بات معالم کے حاشیہ پر مرقوم ہے۔تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے۔تلك الغرانيق الخ کی نسبت یہ کہنا کہ رسول اللہ نے سورہ نجم میں اس کو پڑھا صحیح نہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں۔لم يـصـح شـيء مـن هـذا ولا ثبـت بوجـه مـن الوجوه و مع عدم صحته بل بطلانه فقد دفعه المحققون بكتاب الله سبحانه۔حيث قال الله تعالى وَلَوْ تَقَوْلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ و قوله تعالى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى و قوله تعالى وَلَوْلَا أَنْ تَبَّتْنَكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنَّ إِلَيْهِمْ فنفى المقاربة الركون فضلا عن الركون قال البزار هذا حديث لا نعلمه يروى عن النبي صلى الله عليه و سلم باسناد متصل - قال البيهقى هذه القصة غير ثابتة من جهة النقل ثم اخذ يتكلم ان رواة هذه القصة مطعونون فيهم- لے اس قسم کی کوئی بات بھی کسی وجہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہوئی۔اگر چہ خود ہی اس کی عدم صحت اور اس کا بطلان ظاہر ہے۔مگر محققین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہی تو اسے رد کر رہی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر یہ ( نبی ) ہماری نسبت کوئی جھوٹی بات لگا تا تو ہم اس کا دہناہاتھ پکڑتے پھر ہم اس کی رگ حیات کو کاٹ ڈالتے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ نبی اپنی طرف سے نہیں بولتا۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر ہم تجھ کو مضبوط نہ رکھتے تو تو ان کی جانب قریب تھا کہ مائل ہو جاتا۔اب یہ آیت مقاربت میلان کی بھی نفی کرتی ہے۔چہ جائیکہ آنجناب کا میلان ان کی جانب ہوتا۔ہزار کہتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس حدیث کو متصل اسناد سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو۔بیہقی کہتے ہیں یہ قصہ نقل کے قانون کے لحاظ سے ثابت نہیں ہوا۔پھر بہقی نے یہ کلام کیا ہے کہ اس قصہ کے راویوں میں طعن کیا گیا ہے۔