تصدیق براھین احمدیہ — Page 200
تصدیق براہین احمدیہ ۲۰۰ نبوت سے علاوہ بطور مشورہ کے فرماتے ہیں۔آپ نے فرمایا میں رسالت کے لحاظ سے یہ حکم نہیں دیتا اپنی ذاتی رائے سے تجھے کہتا ہوں۔اس نے نہ مانا اور کہا مجھے اختیار حاصل ہے۔اسی طرح إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ ۚ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّ أَحَدًا (الكهف : )۔اس آیت میں شرک سے ممانعت اور اس امر کا بیان ہے کہ میں ایک بشر ہوں بشریت میں تمہاری مثل ہوں۔خبر دار کبھی شرک نہ کرنا مجھے خدا نہ کہہ بیٹھنا نہ میری عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اور ایسا ہی ان آیات کریمہ میں غور کرنے والا یقین کر سکتا ہے کہ اسلام کہاں تک شرک سے بیزاری ظاہر کرتا ہے۔وَيُعَذِّبَ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكْتِ الظَّاثِينَ بِاللهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا إِنَّا أَرْسَلْنَك شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ b وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله ط يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيْهِمْ ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ ۚ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عُهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيْهِ أَجْرًا عَظِيمًا (الفتح: ۷ تا ۱۱) لے اس کے سوا نہیں کہ میں تم سا ایک بشر ہوں مجھے حکم ہوتا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے وہ عمل نیک کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بلاوے۔ے اور اللہ سزادے کا منافق مردو عورت اور مشرک مرد و عورت کو جو اللہ کی نسبت بدظنی رکھتے ہیں انہیں کے اوپر برائی کا پھیر ہے۔اور اللہ ان پر ناراض ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم تیار کیا اور وہ برا ٹھکانا ہے۔( یہ لوگ اپنی دولت کثرت اور قوت پر فریفتہ نہ ہوں اور اپنے موجودہ وقت کو جس سے سزا ابھی غائب ہے سر دست آرام کا زمانہ تصور فرما کر مغرور نہ ہو جاویں۔ان کو سزاد ینا ان کا استیصال کرنا اور عقل و فکر انسان سے باہر نا اندیشہ سامانوں کا ہلاکت کے بہم پہنچانا ہم پر کچھ دشوار نہیں ہے۔اسباب ہمارے ہیں اور اسباب کے خالق ہم ہیں) اور آسمان و زمین کے لشکر اللہ کے قبضہ میں ہیں اور اللہ غالب حکمت والا ہے ہم نے تجھ کو (اے نبی) شاہد مبشر نذیر بھیجا ہے ( اب ضرور ہے کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤا سے ( رسول کو ) قوت دو اور اس کی تعظیم کرو۔اور صبح و شام اللہ کے نام کی تقدیس کرو۔یقیناً جو لوگ مجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کاہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔اب جس نے عہد کو تو ڑ دیا وہ جان لے کہ وہ عہد شکنی کی سزا پا دے گا۔اور جس نے پورا کیا اسے جس پر اس نے اللہ سے معاہدہ کیا ہے تو عنقریب اللہ اسے اجر عظیم دے گا۔