تصدیق براھین احمدیہ — Page 136
تصدیق براہین احمدیہ ۱۳۶ نے نمبر الف کے نیچے لکھا ہے حالانکہ وہ دلیل نہیں بلکہ صرف باری تعالیٰ کی صفات کا بیان ہے اگر صرف صفات باری کا بیان اثبات وجود باری میں دہر یہ پر حجت ہے تو قرآن مجید نے صفات باری کے بیان میں کسی قسم کی کمی نہیں کی تھی۔مکذب نے صفات کا بیان قرآن کریم میں کیوں نہ دیکھا۔اگر آریہ کی نظر میں نہیں آیا تو اب زیر نمبرب ملاحظہ کریں۔وید منتر کے الفاظ کو دو خطوط میں لکھا گیا ہے۔اور دو خطوط کے سوا باقی مکذب کے اپنے فقرات ہیں۔الف اوم سرب جگت کرتار ( خالق الکل، سرب ادبار اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا ( قیوم) سرب سوامی (غالب)، گیان مے (علیم)۔تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ سرب بیا پگ (محیط) انتریا می (علیم بذات الصدور)، وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ ایشر (حاکم)، ہرنیہ گر بہہ ( معدن زر ) - إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا ) ابناشی (غیر فانی ( بھو) پرانوں سے (اعضاء سے) خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ پیارا ( بھوا) مکت (نجاہ ) اور سب سکھوں کو إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ داتا۔(سوا) سب کا دہارن کرنے والا وَالْأَرْضَ وَلَا يَوْدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ (قیوم)۔(سونیو) سب ایشرج کا داتا۔(ورینیم ) جو سو پکار کرنے کے لائق اتی سریشٹ ( بھر گو) شدہ اور پوتر کرنے والا۔الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرة: ۲۵۶) الله وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ لے اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہی قیوم ہے اس کو اونگھ اور نیند نہیں آتی۔آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔کون اس کے پاس اس کے اذن کے بغیر شفیع ہو سکتا ہے جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور پیچھے ہے۔اور اس کے علم سے کسی قدر کا احاطہ بھی کر نہیں سکتے مگر جتناوہ خود چاہے۔اس کا تخت آسمان وزمین پر پھیل گیا ہے اور ان (آسمان وزمین ) کی نگہبانی سے وہ تھک نہیں جاتا اور وہ بلند و بزرگ ہے۔ے مومنوں کا دوست اللہ ہے ان کو اندھیرے سے نور کی طرف نکال لاتا ہے اور بے ایمانوں کے دوست طاغوت ہیں وہ انہیں نور سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں۔