تصدیق براھین احمدیہ — Page 74
تصدیق براہین احمدیہ ۷۴ جیسے مکذب کی دلیل کی جز واول سے جو اس کے فقرہ نمبر ۳ میں ہے ظاہر ہے پھر دلیل کی جز و دوم نمبرہ میں فرماتے ہیں۔اگر قدیم نہ مانا جاوے تو حادث ماننا پڑے گا۔مطلب یہ کہ اگر قدم تسلیم نہ کرو گے تو حدوث مانو گے۔مگر افسوس ابطال حدوث صفات پر کوئی دلیل نہیں دی ! صرف استفہام کر کے سکوت کیا ہے جس سے آخر یہی پایا گیا کہ بطلان حدوث صفات باری اور ثبوت قدم صفات مسلم فریقین ہے اس پر کوئی حاجت دلیل کی نہیں مگر میں تعجب کرتا ہوں کہ پھر اس دوسرے جملے کے بڑھانے کی کیا ضرورت تھی۔غرض بات یہ رہی کہ پر میشور اور اس کی سب صفات حسب تسلیم فریقین قدیم ہیں مکذب کے نزدیک دلیل کی ضرورت نہیں پھر نمبر ۵ میں فرماتے ہیں۔اگر روحیں قدیم نہیں تو سب صفات بھی قدیم نہیں۔کیا اچھی منطق تھی کہ اگر اس کے ساتھ یہ ثابت ہوجاتا کہ روحیں باری تعالیٰ کی صفات ہیں۔مگر افسوس کہ فریقین میں سے کوئی بھی روحوں کو تمام صفات باری تعالیٰ کا ہونا تسلیم نہیں کرتا۔نازم بریں منطق و آفرین بریں دعوئی ہمہ دانی۔اپنے ذہن سے جو فرضی تسلیم کئے ہوئے تو ہمات اور خیالات کے قبضہ میں آچکا ہوا ہے ایک خیالی بے بنیاد دعوی تر اشنا اور پھر اس پر یقینی دلائل کو بنی کرنا !۔کیا خوب فلسفہ ہے۔کس نے اور کس دلیل کی بنا پر اسے تسلیم کیا ہے کہ اگر روحیں قدیم نہیں تو سب صفات بھی قدیم نہیں“۔اور روحوں کو سب صفات الہی کون مانتا ہے؟ آپ نے علوم متعارفہ میں تو یہ فرمایا تھا کہ قدیم کی سب ذاتی صفات قدیم ہوتی ہیں اور یہاں بدوں امتیاز ذاتی صفات اور غیر ذاتی کے عام طور پر فرما دیا میرے علم میں تو یہ آتا ہے کہ یہاں بہت کچھ کلام آپ کے دل ہی میں رہ گیا۔جو صفحہ قرطاس پر نہیں لکھا گیا۔لازم یہ تھا کہ آپ جب تک تفصیل کرتے ہم بھی چپ رہتے۔مگر بائیں غرض کہ بحث سے ہم کو تفتیش حق مقصود ہے خود ہی تفصیل کے متکفل ہوتے ہیں۔اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان ضعف قوت بیانی کے باعث اپنا مافی الضمیر بوجہ اکمل ادا نہیں کر سکتا ہاں روشن دماغ کے لئے اضطرارا اپنے کلام میں کچھ قرائن ایسے چھوڑ جاتا ہے جسے وہ اپنی ذکاوت سے موزوں کر دیتا ہے میرے نزدیک آپ