تصدیق براھین احمدیہ — Page 50
تصدیق براہین احمد به (فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ - هود: ۱۰۶) (ان میں سے شقی اور سعید ہیں )۔آریہ کے معنے اگر سریشٹ ، نیک اور خدا ترس کے ہیں تو یہ ایک لقب ہے جو عمدہ اعمال کے ذریعہ ہر نیک آدمی کو مل سکتا ہے۔کسی خاص قوم اور ایک ملک والوں کے واسطے اس کی خصوصیت نہیں۔ان معنوں کے رو سے بنی اسرائیل کا نیک حق شناس ہادی آریہ ہے۔گو وہ شام کا رہنے والا ہو یا مصر کا۔ایک پارسا عیسائی مذہب کا ہادی آریہ ہے گو وہ ناصرت میں پیدا ہوا ہو۔خیر خواہ بنی آدم واعظ تو حید نبی عرب آریہ ہے۔گو مکہ معظمہ میں جلوہ گر ہوا۔اور آریہ ورت کا شہدا، پھکڑ ،خدا کو برا کہنے والا دیسیو ہے۔دیکھ صفحہ ۱۶ تکذیب۔اور اگر وید کے معنے اس سث ودیا کے ہیں جس سے باری تعالیٰ کی۔رضا مندی کا اور کسی بچی بشارت کا پتہ لگ سکتا ہے اور وہ چیز ہے جو مقدسوں کے پڑھنے کے قابل ہے۔تو تمام مقدسہ کتب وید ہیں سب قرآن ہیں ساری کی ساری انجیل ہیں۔تکذیب صفحہ ۷ تا ے میں وید کی قدامت کا بیان ہے۔مگر ہم کہتے ہیں کہ نفس قدامت کسی خوبی کی مثبت نہیں ہو سکتی۔دیکھئے مادہ آپ کے نزدیک قدیم ہے حالانکہ جڑھ ہے چین نہیں تو کیا نفس قدامت کسی خوبی کی مثبت ہے؟ اگر ہے تو پہاڑ بہت پرانے ہیں اور مادہ بقول تمہارے ان سے بھی پرانا ہے۔اول۔آپ ثابت کریں کہ وید الہی کلام ہے۔بلکہ ثبوت سے پہلے از راہ کرم دنیا کو دکھلائیں کہ فلاں چیز کا نام وید ہے اور اس کے یہ مضامین ہیں پھر دنیا پر ثابت کیجیئے کہ وید کے بعد اللہ تعالیٰ کا فیضان جسے الہام کہتے ہیں بند ہو گیا۔باری تعالی ویدوں کے بعد کسی سے کلام نہیں کرتا۔یہاں تک کہ دنیا فنا ہو پھر پر لے آوے سرشٹی اور مخلوق بنے اس وید کے ماورا جو صرف آریہ ورت میں نازل ہوا۔کسی اور ملک میں کوئی الہی کلام کبھی نہیں ہوا۔اور نہ ہو سکتا ہے ہم کب منکر ہیں کہ ہند کو اللہ تعالیٰ کے فیضان سے محرومی رہی۔اور اس میں ہادی و واعظ تو حید نہیں گزرے۔بلکہ قرآن صاف بتا تا ہے۔