تصدیق براھین احمدیہ — Page 294
تصدیق براہین احمدیہ ۲۹۴ کے خلاف کرتے یا احسان نہیں کرتے اس دو قسم کی مختلف کارروائی سے معلوم ہوتا ہے کہ احسان کرنا ہمارا ذاتی اور خانہ زاد وصف نہیں بلکہ مابا لعرض ہم کو یہ صفت لاحق ہو جاتی ہے اور ہر مابالعرض کے واسط مابالذات ضرور ہے پس لازم آیا کسی جگہ احسان بالذات موجود ہے۔تو کیوں آریو! اس جگہ کا نام باری تعالیٰ کی پاک ذات نہیں جانتے ؟ چوبیسواں جواب۔تاریخ کے اعتقاد پر ضرور ہے کہ کسی شخص کو جناب باری تعالی کی پاک ذات سے محبت نہ رہے حالانکہ نص ہے اور آپ مانتے ہیں۔وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة: ١٦٦) اور یہ بات کہ تناسخ کو ماننے پر باری تعالیٰ سے محبت نہیں رہ سکتی اس لئے ہے کہ جس حج کی نسبت مجرم کو اعتقاد ہو جاوے کہ ممکن نہیں کہ میری خلاف ورزی قانون اور جرم کے بعد یہ حاکم مجھے قصور وار پر رحم کرے گا وہ حاکم مجرم کو کیوں پیارا ہونے لگا۔ہاں جس مجرم کو یہ ایمان ہو کہ شاید حاکم سے درگزر ہو جاوے آج نہ سہی کل۔البتہ وہاں محبت ممکن ہے۔پچیسواں جواب۔حسب الاعتقاد ایسے عدل ایزدی کے جس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ، عطا اور احسان کی امید نہ رہے۔بد کار کو اس کی جناب میں دعا ، پرارتھنا لغو اور بے ہودہ ہو گی۔معاذ اللہ۔مگر کیا پیارا کلمہ قرآن کریم میں موجود ہے۔إِنَّهُ لَا يَايْتَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُوْنَ (يوسف:۸۸) اور کیا پیارا ہے لَا تَقْنَضُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر: (۵۴) - لے ایمان والے تو اللہ تعالیٰ سے بڑی محبت رکھا کرتے ہیں۔بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانوں سے اس کے منکر ہی نا امید ہوا کرتے ہیں۔سے خبردار اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہو جو اللہ تعالیٰ تو تمام گناہوں کو عفو کیا کرتا ہے۔پس ایسے رحیم کریم کے در سے نا امیدی جہل ہے۔