تصدیق براھین احمدیہ — Page 174
تصدیق براہین احمد به ۱۷۴ مصدق۔تمام اعتراض از سرتا پا افتر او بہتان اور راستی سے بے نام ونشان ہے اول اس لئے کہ اگر معترض ہی کا وہ ترجمہ مان لیا جاوے جو خود معترض نے اس آیت کے نیچے لکھا ہے ” جس روز جامہ اٹھایا جاوے گا پنڈلی سے اور بلائے جاویں گے لوگ واسطے سجدہ کرنے کے بس نہ کر سکیں گے۔تکذیب صفحہ نمبر ۶۸۔جب بھی اس ترجمہ سے وہ باتیں نہیں نکلتیں جو مکذب براہین نے اپنے اعتراض میں بیان کی ہیں مثلاً ” تم کو دیدار دوں گا ایک اور تم نہیں مانوں گے۔دو۔پھر میں تمہارے اصرار پر۔تین تب تم سجدہ میں گرو گے۔چار۔زود رنچی۔پانچ نہیں شرماتا۔چھ۔تعجب و حیرت ہے۔فَلَا يَسْتَطِيعُون کے معنی مکذب نے یہ لکھے ہیں پس نہ کر سکیں گے اور اعتراض میں مکذب نے لکھا ہے تب تم سجدہ میں گرو گے“۔آریہ صاحبان! انصاف کرو! اور بیچ کے اختیار کرنے میں دیر نہ کرو وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف: (۱۲۹)۔اب میں آپ کو اس آیت کی بقدر ضرورت تشریح سناتا ہوں۔اور آیت کا مابعد بھی ساتھ ہی بیان کرتا ہوں۔يَوْمَ يُكْشَفَ عَنْ سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِئَةً وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَلِمُونَ (القلم : ۴۴۴۳) الساق عربی میں شدت اور تکلیف کو کہتے ہیں۔اور کشف الساق شدت اور تکلیف کا ظہور ہے پس يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقِ کے معنے ہوئے جب شدت اور تکلیف کا ظہور ہوگا۔ان معنوں کا ثبوت علاوہ لغت عرب کے قرآن کریم سے دیا جاتا ہے۔كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ الشَّرَاقِيَ وَقِيْلَ مَنْ رَاقٍ وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إِلى رَبِّكَ يَوْمَبِينِ الْمَسَاقُ (القيامة : ۲۷ تا ۳۱) یادر کھوانجام کار کامیابی خداترسوں کے حصہ میں آتی ہے۔ے جس وقت سخت اضطراب کا وقت ہوگا اور سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے پس ان کو سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو گی۔ان کی آنکھیں (مارے ضعف و دہشت ) کے بے نور ہوگئی ہوں گی ذلت نے انہیں ڈھانک رکھا ہوگا اور (اس حالت سے پہلے ) جب بھلے چنگے تھے سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے۔سے ایسا نہ ہوگا جس وقت سانس پنسلی تک پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کون افسوں کرنے والا ہے ( جو اسے اب بچالے ) اور (مریض) یقین کرتا ہے کہ اب جدائی کا وقت ہے اور سخت گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے اس وقت چلنا تیرے رب کی طرف ہے۔