تصدیق براھین احمدیہ — Page 151
تصدیق براہین احمد به ۱۵۱ اچھے تجربہ کے ڈاکٹر کو زخموں کا چیر نافی نہیں گو اس عمدہ کام کو ایک رقیق القلب نہ کر سکے اور ڈاکٹروں کو اپنے زعم میں قسی القلب کہا کرے۔مگر تعجب ہے کہ ذبح کے منکر ذبح کے سوائے انواع و اقسام کے شدائد اور تکالیف جانوروں پر جائز رکھتے ہیں۔حالانکہ (اول) صدمہ موت جو ذبح سے حاصل ہوتا ہے۔بدوں دخل انسانی بھی شدنی ہے۔اور جن تکالیف کو منکرین ذبح جائز رکھتے ہیں وہ بدوں جبر انسان کے اور کسی طرح حیوانات کو لاحق ہوئی ممکن نہیں۔(دوم) ان تکالیف سے جن کو منکرین جائز رکھتے ہیں حیوانات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔صرف اس میں انسانی فائدہ ہے۔اور ذبح جانور کو تکالیف امراض اور تدریجی موت کے شدائد سے نجات بخش ہے بخلاف ان تکالیف کے جن کو منکرین جائز رکھتے ہیں۔مصائب شدیدہ کے تحمل پر مہلت دینا رحم نہیں پس ذبح کر نا رحم ہے۔کیونکہ ذبح کرنے میں جانور کو شدائد مرض الموت اور دیگر شدائد زمانی سے بچایا جاتا ہے۔اور ذبح سے جانور کو وہی امر پیش آتا ہے جو اسے بدوں ذبح بھی پیش آنے والا تھا۔حیوانات کے ذبح کرنے میں انسان کیوں مستثنیٰ کیا گیا۔اس لئے کہ (اول) انسان مدنی الطبع اور بہت حقوق کا ذمہ وار ہے اور بہت معاملات کا اس پر مدار ہے۔ہاں انسان کے ہاتھ سے جن حقوق کا اتلاف معاملات ذبح میں ممکن تھا مذ ہب حق نے اس کا انسداد ضرور کیا ہے چنانچہ اسی مصلحت کی بنا پر شیر دار جانور کا ذبح بلحاظ اس کے بچہ کے اور اور ملک کے جانور کا ذبح کرنا بلحاظ اتلاف حقوق غیر کے درست اور پسندیدہ نہیں۔(دوم) انسانی بناوٹ پر نظر کرو۔انسان کی ابتدائی پرورش کس طرح جانوروں سے زیادہ پر از تکالیف ہے۔اس کی خوراک، پوشاک اس کے علوم کس دقت اور محنت سے اس کو حاصل ہوتے ہیں۔پس اس قانون الہی سے قیاس ہو سکتا ہے انسان کی موت بھی بخلاف حیوانات انہیں حکمتوں کے لحاظ سے بڑی بڑی دقتوں اور مشکلات پر مبنی ہوگی۔