تصدیق براھین احمدیہ — Page 126
تصدیق براہین احمد به ناظرین! غور کریں اس ویدک فلسفی سے دہر یہ پر کیا حجت قائم ہوسکتی ہے؟ اب قرآن کے دلائل اور آیات وجود صانع عالم سنئے۔مگر قبل اس کے کہ اصل مقصود شروع کیا جاوے تھوڑا الطور تمہید کے بیان کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔(۱) اثبات صانع میں لوگوں نے کبھی امکان اجسام سے استدلال کیا ہے۔کبھی امکان صفات اجسام سے گاہے حدوث اجسام سے کسی وقت حدوث صفات اجسام سے اور ظاہر ہے کہ ان دلائل کا مدار مسئلہ ترجیح بلا مرجح کے ابطال پر ہے یا دور تسلسل کے امتناع پر اور یہ دونوں راہیں بڑی دور دراز ہیں بلکہ یوں کہیئے کہ ایسی مشکل ہیں کہ ان پر چلنے سے عامہ خلق کا منزل مقصود پر پہنچ جانا دید کے سمجھنے کی طرح مشکل ہی نہیں بلکہ محال ہے۔(۲) علاوہ بریں اثبات مطالب میں منطقی اور فلسفی مزاج لوگ قیاس تمثیلی سے دلیل پکڑتے ہیں یا قیاس شمولی سے حالانکہ ان قیاسات کا مدار تماثل اجسام پر ہے یا ایسے چند امور مشترکہ کے ماننے پر جن کو کلیات خمسہ کہتے ہیں اور تماثل اجسام و کلیات خمسہ کا مسئلہ ایسا بودا اور غلط ہے جس پر ہمیشہ سلف نے انکار فرمایا اور سچے طبعیات نے اسے غلط ثابت کیا۔قرآن کریم ہمیشہ استدلال بالا ولی سے کام لیتا ہے جو بالکل یقینی اور فطرت کے مناسب ہےاستدلال بالاولیٰ کی مثال لَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ (بنی اسرائیل: ۲۴) ہے۔اس کلمہ الہیہ میں حکم ہے ماں باپ کو اف تک نہ کرو۔جس سے ثابت ہوا۔والدین کو کسی قسم کی ایذا دینا بطریق اولی اسلام میں جائز نہیں دوسری مثال سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (الحالية : ١٤) سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پتھر ، درخت، جانور ، سورج وغیرہ تمہارے خادم ہیں۔یہ تو تمہارے مساوی بھی نہیں۔پس ان کو معبود بنانا اور آپ ان کا خادم بننا بطریق اولی باطل ہوگا! کیونکہ شرک میں معاملہ بالعکس ہے!! (۳) یہ بھی یاد رہے قرآن کریم دلائل کے بیان میں انعامات اور احسانات