تصدیق براھین احمدیہ — Page 296
تصدیق براہین احمدیہ ۲۹۶ اسباب جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے کہاں سے آوے اس واسطے یا تو بدکاروں کا اس پر احسان ہے کہ ایسے سامان مہیا کر دیتے ہیں یا وہ معاذ اللہ بہ مجبوری ان سے بدی کراتا ہے۔تا کہ اسے نیکوں کے انعام میں مدد ملے۔نیک اس واسطے بدکاری کو چاہیں کہ ان کو بدوں بدی بدکاروں کے گھوڑے، ہاتھی ، خچر عورتیں کہاں سے ملیں۔مکانات کی لکڑیاں کہاں سے آویں۔گرمی میں بچارے ہندوستانی کس بڑ، برگد، پیپل کے نیچے آرام کریں۔اسی واسطے آریہ کے خیال پر لا انتہا زمانہ سے بدکاری دنیا میں موجود ہے اور لا انتہازمانہ تک بدی میں موجود رہے گی۔اٹھائیسواں جواب۔جب گناہ کا ہمیشہ رہنا جیسا ستائیسویں جواب میں بیان ہوا ضروری ٹھہرا اور بدکاری کی سزا اٹھانا بھی ضرور پڑا۔تو بتا ؤ پھر بد کا رکو جناب باری تعالیٰ سے محبت ہو گی یا نفرت؟ انتیسواں جواب محسن ، مربی، مخدوم ، مصلح، ہادی، مکرم کو بُرا کہنا فطرت کی گواہی ہے کہ بہت بڑا ظلم ہے۔خالق فطرت کے کلام میں ایک صدیق کا ذکر ہے وہ فرماتا ہے۔إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ (يوسف: ۲۴) إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (الشورى: ۴۱) اور خالق فطرت کے کلام میں ہے۔الطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَتِ (النور: ۲۷) مگر تناسخ کے ماننے والے اپنے تمام محسنوں کو بد کار اور بُرا جانتے ہیں بلکہ ان پر سوار ہوتے اور ان سے زنا ، لواطت کے واقع ہونے کے مجوز ہیں۔کیونکہ اگر ان کے محسن برائیوں کے مرتکب نہ ہوں۔تو وہ آواگون اور جنم مرن میں کیونکر آویں۔مگر جنم مرن میں آنا تو ضرور ہے۔اس لئے ثابت ہوا کہ وہ لوگ بدی کے بھی مرتکب ہوا کرتے ہیں۔لے وہ تو میر امر بی ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا اگر میں اس سے بدسلوکی کروں تو ظالم بنوں ، اور اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں رکھتا۔کے پھلوں کو بھلی بات کہو بھلی باتیں تو بھلوں ہی کے لئے ہیں۔اور بھلے لوگ ہی بھلی باتوں کے مستحق ہیں۔