تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 291 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 291

تصدیق براہین احمد به ۲۹۱ ہے تو کیا یہ فطری خواہش جبلی طلب اور بے تاب پیاس طالب کو محروم رکھے گی؟ اور باری تعالیٰ کے کامل رحم کامل فضل والے گھرانے سے بچے طالبوں کو صاف جواب ملے گا کہ ابدی نجات ، سرمدی راحت اور دائمی آرام و سرور کا سامان اس ہمہ قدرت ہمہ فضل ہمہ طاقت کے گھر میں موجود نہیں ہرگز ایسا نہ ہو گا۔اوکم نصیب آریو! ہرگز ایسا نہ ہوگا۔ہاں او تناسخ کے ماننے والو! اس کریم کی بارگاہ سے ایسا روکھا سوکھا جواب ہرگز نہ ملے گا! بلکہ بات تو یہ ہے کہ اس کی صفت عدل بھی ہم طالبوں کی سپارش فرما ہوگی اور عرض کرے گی کہ ان غرباء کے فطری اور جبلی تقاضا کو پورا کیجئے اے اللہ الکریم آپ کے دروازہ کو چھوڑ کر کدھر جاویں۔آپ کی سرب شکتیمان القادر بارگاہ معلی سے محروم ہو کر کہاں سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔آپ کی شب و روز کیا ازل سے ابد تک کی بخششیں ایسی نہیں کہ انہیں کوئی خرچ بھی کم کر سکے تب ہم کو انشاء اللہ تعالیٰ ابدی آرام نصیب ہوگا۔۔ہاں تناسخ کے قائل ابدی آرام کے منکر۔دیانندی آریہ ابدی آرام ابد الآبادنجات سے محروم رہ جاویں تو شاید رہ جاویں۔اس لئے کہ ان کی فطرت اور جبلت میں یہ طلب ہی نہیں رہی۔ان کی روح نے ابدی آرام کا سوال ہی چھوڑ دیا۔اس اعتقاد نے ان کی فطرت کو اگر مسخ کر دیا تو ممکن ہے ان پر نہ وہ رحم ہو اور نہ عدل ان کی سپارش کرے۔اٹھارہواں جواب دیا نندی آریہ کے نزدیک آواگون ہی ایک جہنم اور یہی مع کچھ دن کی اس آزادی کے جس میں روح جسم سے الگ رہے گی، بہشت ہے والا نہ کوئی بہشت نہ سرگ اور نہ جہنم اور نہ نرگ۔اور تمام ارواح ازل سے ابد تک ہمیشہ گرفتار رہے اور ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔پس ہم کو سخت حیرانی ہے۔اگر تمام ارواح کو ہمیشہ ایسی گرفتاری رہی۔با اینکہ دیا نندی آریہ مانتے ہیں کہ ارواح اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں اور نہ اس کے پرتے بمب یعنی ظل ہیں۔پس دیا نندی آریہ صاحبان بتائیے ایسی سخت گیری کسی رحیم یا عادل کا کام ہے۔قرآن کریم کیسے لطف سے فرماتا ہے۔