تصدیق براھین احمدیہ — Page 292
تصدیق براہین احمدیہ وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا (الكهف: ۵۰) ۲۹۲ انیسواں جواب۔قطع نظر اس امر کے دیانندیوں کے نزدیک اللہ تعالی ارواح کا خالق نہیں اور پھر ان پر ایسا سخت گیر ہے کہ ارواح کو کبھی ابد الآبادنجات نہ دے گا بتقدیر تسلیم اعتقاد آواگون کے وہ رحیم، کریم محسن یعنی دیالو، کر پالو بھی نہیں ( معاذ اللہ ) کیونکہ اس رحمن ، رحیم ، کریم کے ہر ایک احسان کے بدلہ میں آریہ لوگ کہہ دیں گے کہ ان کو اپنے اعمال کی مزدوری مل رہی ہے۔پس بس اللہ تعالیٰ کا کوئی فضل ان پر نہیں۔مگر سچ ہے وہی کتاب جس میں لکھا ہے نجات اس کے فضل سے ہوگی۔وَوَقُهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ فَضْلًا مِنْ رَّبِّكَ (الدخان: ۵۸،۵۷) سابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الحديد: ۲۲) نجات کا مسئلہ فصل الخطاب نام رد نصاری میں مفصل ہے۔بیسواں جواب۔آریہ صاحبان! باری تعالیٰ کو فضل و کرم سے کس نے روکا۔اس پر کون غالب۔اس پر کون حکمران۔اس نے کب عہد نہیں بلکہ وعید کر دیا ہے کہ کسی پر محض فضل نہ کرے گا ؟ ہم تو کہتے ہیں اگر ایسا سخت ڈراوا دیا بھی ہے تو بھی وہ نجات دے سکتا ہے۔کیونکہ وہ ہر طرح کے عیوب سے پاک جانتا ہے کہ وعدوں کے خلاف کا نام اگر کذب ہے تو وعید کے خلاف کذب نہیں بلکہ کرم اور فضل ہے۔لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ (الانبياء :۲۴) ے تیرا رب تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ے اور بچایا ان کو دوزخ کے عذاب سے۔یہ فضل ہوا تیرے رب کا۔سے دوڑ واپنے رب کی معافی اور اس جنت کی طرف جس کا پھیلاؤ ہے آسمان اور زمین کے پھیلاؤ کے برابر۔رکھی گئی ہے ان کے لئے جو یقین لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر یہ فضل ہے اللہ کا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔ے جو کچھ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس پر کس کونکتہ چینی اور سوال کی جگہ نہیں اور جو کچھ لوگ کرتے ہیں اس پر تو نکتہ چینی اور سوال ہوسکتا ہے۔