تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 196 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 196

۱۹۶ تصدیق براہین احمدیہ بیرونی سے فارغ ہو جاؤ تو پھر اپنے نفوس میں مطالعہ کروند بر کرو۔دوسری آیت شریف هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ (الحدید: ۴ مگر جب ان سے دریافت کیا گیا کہ جس چیز کے اول و آخر وہ ہو وہ چیز آپ کیا ہوئی ؟ اور جس چیز کا ظاہر و باطن وہ ہوا وہ خود کیا ہوئی ؟ تو عوام مدعیان وحدة الوجود ساکت رہ جاتے ہیں۔ہاں البتہ وید میں مسئلہ وحدۃ وجود کی بنیاد مستحکم رکھی گئی ہے۔اس لئے کہ آریہ ورت میں وحدۃ وجود کے مسئلہ کو ویدانت کہتے ہیں۔اور خود یہ لفظ ہی ظاہر کئے دیتا ہے کہ اس کی اصل کہاں سے ہے۔اور حضرت میرزا صاحب کے شحنہ حق اور سرمہ چشم کے جواب میں ایک میرٹھ کے آریہ صاحب جو چھاؤنی نصیر آباد ضلع اجمیر کی عدالت کے سرشتہ دار ہیں۔اپنی کتاب تنقیہ میں فرماتے ہیں۔وہی پر آتما اپنی اچھا سے بہ روپ ہو گیا یعنی رب شکلوں میں ظاہر ہوا۔یہ بقیہ حاشیہ نہ نہایت واضح اور صاف راہ ہے اور پہلا اور ایک ہی مذہب ہے جس کے بانی کو اپنی صداقت اپنی کامیابی کا کامل تیقن اور علی بصیرت اذعان ہے کہ دن رات میں پانچ بار علی رؤوس الاشہاد بلند مناروں پر اس مذہب کے اصول کی ندا کی جاتی ہے۔اللہ اللہ ، کوئی جو یائے حق سلیم القلب ہے کہ اس ایک دلیل سے اس کامل بادی کا صادق پیر و بن جائے؟ فرقان حمید نے خلق وخالق، ممکن و واجب، فانی و باقی میں امتیاز و تفرقے کی نسبت پردہ برنداز گفتگوئیں کی ہیں۔جناب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے جو آپ کی عملی لائف کا سچا حقیقت نما دستور العمل ہے ہرگز کوئی ایم یا صراحت بھی ایسے لغو خیالات ( ہمہ اوست یا ہمہ از واست وغیرہ) کے متعلق پائی نہیں جاتی۔صدرامت اور ائمہ سلف کے کسی قول اور فعل سے کوئی دلیل لائی نہیں جاسکتی۔پس یہ کافی ثبوت ہے کہ نفس اسلام اور اس کے صادق اتباع ایسے خلاف عقل عقائد و تعلیمات سے بری ہیں۔ایک شخص جس نے اعلائے کلمتہ اللہ میں توحید کا نور عالم میں پھیلانے کو اپنی اور اپنے پیروؤں کی جانیں کھپادیں۔وہ شخص جو قدم قدم پر اپنے بندہ ہونے اور عاجز بندہ الہی ہونے کے ثبوت دیتا ہے۔وہ جو مشرک اور کافر کو تیغ بے دریغ کا عرضہ بنانے سے تذبذب نہیں کرتا جس نے ایک عالم سے قولاً وفعلاً غیر اللہ کے آثار مٹاڈالے۔مظاہر شرک و بدعت کو جڑ سے اکھاڑ دیا جس کے ادنیٰ سے ادنی خادم نے سومنات کے ایسے شرک گڑھ کو حرف غلط کی طرح صفحہء عالم سے حک کر دیا۔ایسے مقدس وجود کی نسبت یہ کہا جاوے کہ اس نے شرک کی تعلیم دی یا ویدانتی مسئلہ کی بنیاد ڈالی سراسر افترا ہے۔یوروپ کے سخت سے سخت دشمن بھی جنہوں نے اسلام پر لکھا ہے اس امر کا اعتراف کرنے سے پہلوتہی نہیں کرتے کہ اسلام ہی ایک ایسا مذ ہب ہے جس نے دنیا میں توحید کو شائع کیا۔ڈریپر صاحب لکھتے ہیں مسیحی مذہب نے گو کافی طور پر ثابت کر دیا تھا کہ وہ حکومت وسلطنت کے انتظام کے لئے کفیل ہو سکتا ہے مگرکس پر بھی اپنے حریف ( شرک و کفر) کے استیصال کے لئے قومی نہ تھا بنا بریں غیر مذہب کے ساتھ اس کے مجاہدہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے اصول خلط ملط ہو گئے۔اس مادہ میں عیسویت و اسلام میں تناسب نہیں جس (اسلام) نے اپنے مخالف و حریف کو بکلی معدوم کر دیا اور بلا اختلاط غیرے فقط اپنے ہی اصول کو شائع کیا۔( تاریخ منازعت مابین مذہب و علم دیا ندیوں کے یہ اعتراضات اسلام کی شوکت اور قرآن کی صداقت مٹانے سے رہے۔وہ ان باتوں سے اپنی ہی دانش و بینش کی ہنسی اڑا رہے ہیں۔اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُهُمْ فِي طغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (البقرة: ۱۲)۔صاحبان بصیرت سمجھتے ہیں کہ ایسی خردہ گیریوں سے ان کا منشا کیا ہے۔حقیقت میں فرعون کی طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں دل ہی دل میں شکست کھا گئے ہیں مگر اب ظاہر میں نمودی رسیوں کے سانپوں سے حق تعالیٰ کے قدوس کا سامنا کیا چاہتے ہیں۔سوانجام وہی ہوگا جو الیسوں کا ہوا کیا ہے۔(عبدالکریم)