تصدیق براھین احمدیہ — Page 165
تصدیق براہین احمدیہ ܬܪܙ سڑکوں اور میلوں کے نشانات اس کے راہوں میں ہرگز نہ تھے۔اس لئے عرب لوگ غالبا رات کو سفر کرتے تھے۔اور ثریا نام انجم سے سمت کو قائم کر لیتے تھے جس طرح آج جہازی مسافر قطب نما سے سمت کو قائم کر لیتے ہیں۔اندھیری راتوں میں وہ انجم کو یا بدرقہ کا کام دیتا تھا۔قر آن کریم نے جہاں النجم کے فائدے بیان کئے ہیں وہاں یہ بھی فرمایا ہے۔وَ بِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (النحل: ۷) اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ النجم اگر سمت الراس پر واقع ہو تو اس سے مسافروں کو راستہ کا پتہ نہیں لگ سکتا۔اس النجم کا مشرق یا مغرب میں ہونا سفر والوں کے لئے ضروری ہے۔عربی زبان میں ھویٰ چڑھنے اور ڈھلنے دونوں کے معنی دیتا ہے۔پس اس رکوع کی پہلی آیت وَالنَّجْمِ إِذَا هَوى (النجم:۲) کے معنی یہ ہوئے قسم ہے النجم (ثریا) کی جبکہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف ہو باری تعالیٰ رات کے اندھیروں میں جنگلوں اور راستوں کے چلنے والوں کو فرماتا ہے لوگو! تمہارے لئے تم کو منزل مقصود تک جانے کے واسطے اور جسمانی سمتوں کے سمجھنے کی خاطر ہم نے النجم کو تمہارے کام میں لگایا۔تو کیا جسمانی ضرورتوں سے بڑھ کر تمہاری ضرورت کے واسطے اور روحانی منزل مقصود تک پہنچ جانے کے واسطے تمہارے لئے کوئی ایسا مصلح اور کوئی ایسا ریفارمرسلیمۃ الفطرت سچا ملہم نہ ہوگا جو تم کو تمہارے روحانی اندھیروں اور اندرونی ظلمتوں کے وقت راہنمائی کرے؟ فانی اور چند روزہ تکلیف جسمانی راہوں کے نہ سمجھنے میں جب تمہارے گرد و پیش کے نشانات تم کو راہ نمائی نہیں کرتے تو ہمارے روشن اور بلند ستاروں سے ضرور تمہاری دستگیری کی جاتی ہے۔پھر جب تمہارے فطری قویٰ اور تمہاری روحانی اور ایمانی طاقتوں پر تمہاری جہالتوں تمہاری نادانیوں تمہاری بد رسومات اور عادات اور حرص اور ہوا اور بے جا خود پسندی اور ناجائز آزادی کی اندھیری رات آجاتی ہے اور اس وقت تم ابدی نجات کی منزل تک پہنچنے سے حیران وسرگرداں ہو جاؤ تو کیا ہماری رحمت خاص اور فضل عام سے کوئی روشنی بخش اور رہنما سیارہ نہ ہو گا ؟ لے اور النجم سے وہ راہ پاتے ہیں۔