تصدیق براھین احمدیہ — Page 129
تصدیق براہین احمدیہ ۱۲۹ جب تمام اپنے ارد گرد کی مخلوق کو بے نقص، کمال ترتیب، اعلیٰ درجہ کی عمدگی پر پاتے ہیں ضرور بے تابی سے ایک علیم وخبیر قادر کے وجود پر گواہی دیتے ہیں۔فطرت کی اس زبر دست دلیل کو غور کرو۔قرآن مجید کیسے الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔وَمِنْ أَيْتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرُ تَنْتَشِرُونَ (الروم: ۲۱) ان کلمات میں قرآن ان آیات صانع عالم کی طرف توجہ دلاتا ہے جوانسان کی ذات میں موجود ہیں۔ان کلمات طیبات سے پہلے اور اس دلیل سے اول اللہ تعالیٰ نے اپنی قدوسیت ہر ایک نقص سے پاک ہر ایک صفت کاملہ کے ساتھ متصف ہونے کا اظہار اور عبادت کی تاکید کی ہے اور کہا ہے۔فَسَبِّحْنَ اللَّهِ حِيْنَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ (الروم:۱۹،۱۸) اس دعوے کا مدار وجود صانع پر تھا۔اس لئے وجود صانع کی دلیل بیان فرمائی اور دلیل بھی ایسی دی جس سے یہ مطلب بھی ثابت ہو گیا۔بیان دلیل یہ ہے کہ آدمی کو دو باتیں حاصل ہو رہی ہیں اول شخص انسانی کا وجود اور اس کی بقا۔دوم بقائے نوع جو مرد عورت کے ملنے سے حاصل ہوتا ہے۔پہلے انعام کی نسبت فرمایا کہ انسان اپنی اصل بناوٹ پر نظر کر کے دیکھے کہ وہ مٹی سرد اور خشک ہے۔اسی سرد و خشک سے تیری گرم اور تر جسمانی روح کو پیدا کیا۔اور عیاں ہے کہ مٹی میں تو کوئی ادراک نہیں۔حرکت اراد یہ نہیں۔کوئی حیات نہیں رنگت میں دیکھے تو میلی گدری ، وزن میں ثقیل ، کثافت میں یکتا سبحان الله و له الحمد ے اور اس کے نشانوں سے ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر تم اچانک چلتے پھرتے آدمی ہو گئے۔سے اللہ کی قدوسیت بیان کرو جب تم شام کرتے اور جب تم صبح کرتے ہو اور اسی کے لئے حمد ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور تیسرے پہر اور جب تم ظہر کرتے ہو۔