تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 91 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 91

تصدیق براہین احمدیہ ۹۱ یہ عربی دانی کا نتیجہ ہے ) کہ کوئی چیز نیستی سے ہستی میں نہیں آتی مگر ہستی سے۔جو نہیں اس کا کسی طرح بہاؤ یعنی پر کاش نہیں ہوتا۔اور جو ہے اس کا بہاؤ اور پرکاش ہوتا ہے۔ہستی سے ہستی ہوتی ہے۔اس کے برخلاف ہستی سے نیستی یا نیستی سے ہستی کبھی نہیں ہوسکتی۔اس واسطے مادہ 66 انا دی ہے۔مصدق براہین۔علم اور سائنس کا پہلا اصول بایں معنے کہ نیستی ہستی کا مادہ اور اصل نہیں اور ہستی نیستی کا مادہ اور اصل نہیں ہوتی۔صحیح ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ بہاؤ اور پر کاش اسی کا ہوتا ہے یا ہو گا جو ہے یا ہو گا مگر اس قصے کو مادہ کے انادی یا آدمی ہونے سے کیا تعلق ہے! ہم کب کہتے ہیں کہ موجودات اور مخلوقات خداوندی کا مادہ موجود اور مخلوق نہیں جس حالت میں موجودات اور مادی دنیا موجود ہے تو ضرور اس موجودات کا مادہ بھی موجود ہے۔کسی چیز کا موجود ہونا تو یہی معنی رکھتا ہے کہ اس کا جزو کا مادہ موجود ہو۔اور سائنس کا فقرہ بایں معنی بھی صحیح ہے کہ نیستی ہستی کی علت یا نیستی ہستی کی خالق نہیں ہوتی اور نہ بالعکس۔الا ہم کہتے ہیں کہ باری تعالیٰ جو ہمارا خالق ہے وہ بالکل ہستی ہے اور موجود ہے۔ہرگز ہر گز نیستی نہیں۔وہ ہستی ہے اور یہ کہ بچی ہستی کسی طرح نیست نہیں اسی واسطے اس کا پر کاش ہے ہم سائنس کا پہلا اصل تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نیستی ہستی کا مادہ یا ہستی کا خالق نہیں ہوتی۔اور نیست مادہ یا نیست خالق کا پر کاش یا ظہور نہیں ہوتا آریہ کے وکیل نے صرف یہاں تک دلیل کو بیان کر کے دلیل کے پورا کرنے سے سکوت کیا ہے چونکہ دلیل کی اتنی مقدار سے کوئی نتیجہ یا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔اس واسطے خاکسار دلیل کو پورا کرتا ہے۔مادی دنیا کا وجود اور اس کا ظہور ہم دیکھتے ہیں اس واسطے ثابت ہوا کہ اس کا مادہ اور اس کی علت ضرور موجود ہے۔اور پدارتھ ودیا یا سائنس سے یہ بھی ثابت ہے کہ مرکبات ایک حال پر نہیں رہتے مرکبات میں ہمیشہ تبدل و تغیر ہوتارہتا ہے۔کبھی دو چیزیں باہم ایسے طور پر ملتی ہیں کہ ان کی اپنی پہلی خاصیت جو علیحدہ علیحدہ رہنے کی صورت میں تھی باطل ہو جاتی ہے۔اور نئی صفات کی تیسری چیز ان سے پیدا ہو جاتی ہے ہم صاف دیکھتے ہیں کہ کوئلہ ، شورہ اور گندھک کی خاص ترکیب سے بارود بن گیا۔جب