تصدیق براھین احمدیہ — Page 90
تصدیق براہین احمدیہ نہیں۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ حکم کا بدوں محکوم عمل پذیر ہونا دھوکہ بازی ہے۔اگر حکم کامل اورست نہ ہو مگر اتنے قصے سے مادہ کا آدی یا انادی ہونا معلوم نہیں ہوتا اگر اس مقدار کو اور بڑھانا اور دلیل کو پورا کرنا مقصود ہو تو یوں ہو سکتا ہے کہ ہم دنیا کی مادی اشیا کو تقسیم اور تفریق قبول کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جس قدر اجزا ہیں ان کی علیحدگی ممکن یا محسوس ہے۔ہمارے آریہ بھائی بھی قائل ہیں کہ ان مرکبات کے اجزا مہان پر لے میں چھن بھن اور جدا جدا اور منقسم ہوں گے اور مکذب کے علوم متعارفہ نمبرس میں یہ امر مسلم ہو چکا ہے۔جو کل میں ہوتا ہے وہ اس کے اجزا میں بھی ہوتا ہے“۔اور یہ بھی مسلم ہے کہ صفت موصوف سے جدا نہیں ہوسکتی دیکھو تکذیب صفحہ ۲۳ علوم متعارفہ نمبر9۔تمام مرکب اشیاء منقسم اور متفرق اور مخلوق ہونے کے ساتھ متصف ہیں اس واسطے بحکم مکذب کے علوم متعارفہ نمبر ۳ کے ان مرکب اشیا کے اجزا بھی منقسم اور متفرق اور مخلوق ہونے کے ساتھ متصف ہوں گے۔اور چونکہ صفت موصوف سے بحکم اس دلیل کے جس کو مکذب صاحب نے بیان کیا الگ نہیں۔اس لئے ثابت ہوا کہ مرکبات کے تمام اجزا ہمیشہ منقسم اور متفرق اور مخلوق ہی رہیں گے۔جب مخلوق ہونا ثابت ہوا۔تو یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ انادی نہیں بلکہ آدی اور مخلوق ہیں نہ انا دی اور غیر مخلوق۔پس ہمارا مطلب بھی یہی تھا۔مکذب کی دلیل پر ایک اور نظر۔آریہ صاحبان آپ کی ارواح اس جنم سے پہلے کسی علم کسی صفت کسی معرفت کے ساتھ موصوف تھے یا نہیں؟ اگر نہ تھے تو ارواح کی چتنا باطل اور اگر تھے تو وہ صفات آپ کے ارواح سے زائل ہو گئیں یا نہیں اگر زائل ہوگئیں تو ثابت ہو گیا کہ صفت کیا صفات بھی موصوف سے الگ ہو گئیں۔اس صورت میں آپ کی دلیل کا ایک حصہ باطل ہو گیا اور اگر زائل نہیں تو بتائیے آپ کن کن علوم کے عالم تھے اور کس کس زمانے میں وہ صفات آپ کو لاحق ہوئیں۔دلیل کا فقرہ نمبر ۳ حکم کا بغیر حکوم کے عمل پذیر ہونا دھوکہ بازی ہے“۔عجب دھوکہ بازی ہے۔حکم حاکم کے بغیر البتہ نہیں ہوسکتا۔اور یہاں تو جب حکم ہوا۔محکوم ہو ہی گیا۔شاید قرآنی کلمہ کی نظر نہیں پڑا۔مکذب۔میٹر کے انادی ہونے کی تیسری دلیل۔پدارتھ ودیا یعنی علم سائنس کا اصول