تصدیق براھین احمدیہ — Page 89
۸۹ تصدیق براہین احمدیہ واسطے ثابت ہوا کہ مخلوقات اور مرکبات کے اجزا بھی مخلوق اور مرکب ہوں گے اور چونکہ وہی اجزا ان گل اشیاء کا مادہ ہیں اس واسطے ثابت ہوا کہ مادہ بھی آدی اور مخلوق ہے۔انادی اور غیر مخلوق نہیں اور اگر آپ کی تکذیب کے صفحہ ۲۶ کی اخیری سطر صحیح ہے کہ جو چیز جزو میں ہے وہی گل میں ہوگی تو یوں کہا جاتا ہے کہ اگر ان مرکبات کے اجزاء غیر مخلوق اور انادی ہوتے اور ان اجزا میں یہ بات پائی جاتی تو کل ان کا یعنی یہ مرکبات ہم تم وغیرہ سب انادی اور غیر مخلوق ہوتے۔آپ بھی تو یہی مانتے ہیں کہ ہم تم اور گل مرکبات انادی اور غیر مخلوق نہیں۔پس ثابت ہوا کہ مادی دنیا کا مادہ اور اس کے اجزا بھی انا دی نہیں۔مکذب۔دوسری دلیل مادہ کے قدم پر نمبرا۔دنیا نہ صرف ذرات سے بن سکتی ہے۔اور نہ حکم سے۔نمبر۲۔کیونکہ قدرت قادر کی ایک صفت ہے اور کوئی صفت اپنے موصوف سے علیحدہ نہیں ہوسکتی ( بحکم علوم متعارفہ نمبر ۹) نمبر ۳ حکم بغیر محکوم کے عمل پذیر ہونا دھوکہ بازی ہے۔نمبر ۴۔اور حکم صرف شہد ہے۔اور جگت کا شہد سے بنا ناممکن ہے بلکہ مادہ سے ، پس مادہ انا دی ہے“۔مصدق جہاں تک اس دلیل پر گہری نگاہ کرتا ہے۔اسے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اگر مکذب کی دلیل کو تسلیم کیا جاوے تو اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ قدرت اور اس کا حکم اور اس کا شبد مادی دنیا کا جز و یا مادہ نہیں ہو سکتا۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صفات باری تعالیٰ اور چیز ہے اور مادی دنیا کا مادہ اور چیز ہے۔کوئی صفت (اس کا حکم یا اس کا شہد یا اس کی قدرت) مادہ عالم کا عین نہیں اور نہ مادہ عالم سے اس کی وحدت الوجودی ہے۔نہ اس کا جزو اور نہ صفات باری کو مادہ عالم سے ذاتی اتحاد ہے یا یوں کہئے کہ آپ کا یہ آریہ ورتی ویدانت مت صحیح نہیں۔دلیل کے صرف اس قدر حصے سے مادہ کی انادیت اور مادے کا غیر مخلوق ہونا کچھ نہیں نکلتا۔ہم مانتے ہیں کہ ہمارے وجود کا مادہ یا ہمارا مادہ ہمارے اجزا اور اعضا ہیں۔شیر، چیتا، گھوڑے، ہاتھی کا وجود یا ان کا مادہ ان کے اعضا ہیں۔صفات باری تعالیٰ یا اس کا حکم یا اس کی قدرت یا اس کا شہد ہمارا یا ہمارے اعضا کا جزو یا عین