تصدیق براھین احمدیہ — Page 87
تصدیق براہین احمدیہ تناسب کے خاص حصہ پر چینا کا فیضان ہوتا ہے اور خاص وہی حصہ انسانی یا حیوانی روح ہے۔آپ کا علی العموم یہ فرمانا کہ جڑھ سے چین پدارتھ نہیں بن سکتا دعوی بے دلیل ہے۔ہرگز صحیح مسلم نہیں۔اور آپ کے نزدیک عدم امکان سے کسی شئی کے یہ لازم نہیں آتا کہ باری تعالیٰ کے نزدیک بھی وہ محال ہو۔صاحب من وہ ہمہ دان لطیف و خبیر تمام مخلوق پر محیط ہے اس کے ید قدرت کے نزدیک جو ممکنات ہیں وہ سب کی سب آپ کی قاصر اور محدود طاقت کے نزدیک محال ہیں علی ھذا تمہارے محال سے محال اس کے نزدیک ممکن ہیں۔آپ نباتات جمادات اور حیوانات پر تجر بہ کر لیں۔نمبر ہ کی فلسفی بھی داد کے قابل ہے۔ہم جڑھ اور چین کو وحدت الوجودی کب مانتے ہیں؟ اور کب اس کے قائل ہیں؟ غور کرو گلاب کی شاخ پھوٹی۔اس نے پتے نکالے پتوں کانٹوں گلاب کی شاخ اور جڑھ سے گلاب کا پھول پیدا ہوا۔اس سے عطر نکلا۔کیا وہ عطر گلاب کی جھاڑی سے وحدت الوجودی رکھتا ہے؟ ہر گز نہیں دونوں کا وجود جدا جدا ہے۔پس خلاصہ مطلب یہ ہوا۔کہ ایک معنی کے لحاظ سے انسانی یا حیوانی روح ایک ایسی چیز ہے جو خاص قسم کے اجتماع عناصر کا ثمرہ ہے یا بطور اور عناصر کے یہ عنصر بھی مخلوق ہے۔اگر عناصر کا ثمرہ ہے تو بھی ان سے متحد الوجود نہیں۔اور اگر الگ عصر ہے تو بھی متحد الوجود نہیں۔اور فقرہ نمبر 4 اگر تسلیم کیا جائے تو آپ سے سوال ہے کہ ذاتی صفات بقول آپ کے لوازم ذات ہوتی ہیں۔اور بموجب آپ کے علوم متعارفہ نمبر ۸ قدیم کے سب ذاتی صفات قدیم ہوتی ہیں۔اور علوم متعارفہ نمبر 9 سے ثابت ہے کہ صفت موصوف سے جدا نہیں ہو سکتی یہ چیتنا جو روح کی صفت ہے آپ کے نزدیک جیسا آپ کے کلام سے ظاہر ہے روح کی ذاتی صفت ہے۔آپ کی روح کو اس وقت جب آپ رحم میں تھے یا رحم سے نکلنے کے بعد دو مہینے میں کس قدر علم حاصل تھا؟ اور وہ علم کا مقدار اب بھی ضرور آپ میں موجود ہے یا تغیر پا کر اور کا اور ہی ہو گیا؟ اب اگر ذرا بھی انصاف سے کام لیا جاوے تو یہ بات صاف معلوم دیتی ہے کہ علوم اور روح کی وہ صفات کچھ مدت کے بعد بالکل دور ہو جاتی ہیں اور روح جدید صفات سے متصف ہو جاتی ہے۔اس واسطے ثابت ہوا کہ روح بالذات چین اور ترکیب سے مبرا نہیں اس لئے بطور