تصدیق براھین احمدیہ — Page 85
تصدیق براہین احمدیہ ۸۵ مکذب کا دعوی نمبر ۵ روحوں میں فنایا موت نہیں اس واسطے روحیں خدا کے قبضہ قدرت میں ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔دلیل یہ ہے نمبرا کہ موت نام روح اور جسم کی جدائی کا ہے ورنہ موت اور کوئی چیز نہیں۔نمبر ۲۔اور روحوں کے واسطے بالذات موت نہیں۔نمبر ۳۔کیونکہ وہ باقی ہیں اور نہ روحوں میں کوئی ایسا مادہ ہے جو کبھی شامل ہوا ہویا کبھی ان سے اخراج پذیر ہو۔نمبر۴۔اس واسطے کہ مادہ جاندار نہیں بحکم (علوم متعارفہ نمبر۲) اس سے روحانیت بھی برآمد نہیں ہوسکتی۔نمبر ۵۔علاوہ بریں جڑھ و چین کی ایکتا یعنی وحدت الوجودی ناممکن ہے۔اور یہ بموجب حکم نمبرے علوم متعارفہ کے باطل ہے نمبر 4۔لہذا روح کے بالذات چین اور مرگ سے مبرا اور فنا سے آزاد ہونے کے سبب اس کی ابتدا نہیں اسی واسطے ہمہ وجوہ ثابت ہے کہ روح انادی ہے اور یہی ثابت کرنا ہمارا فرض تھا“۔مصدق جواب نمبرا۔مکذب نے موت کی تعریف بھی عجیب وغریب کی ہے جو نہ برہان سے ثابت اور نہ ان کے مخالفوں کو مسلم !۔کیونکہ مکذب کے مخالف کل اہل اسلام شہداء کو احیا اور زندہ کہتے ہیں اور اہل اسلام کی پاک کتاب قرآن کریم میں حکم ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يَقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءِ وَلكِنْ لا تَشْعُرُونَ (البقرة : ۱۵۵) اور نمبر۲ میں پھر وہی دعویٰ کی پہلی ٹانگ ہے۔اور نمبر ۳ وہی دعویٰ ہے اور فقرہ نمبر ۲ کا اعادہ ہے گوالفاظ اور ہیں اور آپ کا یہ فرمانا کہ روحوں میں نہ کوئی مادہ شامل ہوا اور نہ اخراج پذیر ہوا۔بالکل دعوی بے دلیل ہے۔اس کو کون مانتا ہے؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ اروح میں ہمیشہ ایسا ہی تغیر ہوتا ہے جیسا اور مرکبات میں ہوتا ہے۔اگر ارواح مرکب نہ ہوتے تو ان میں مرکبات کا سا تغیر کیوں آتا اور کہاں سے آتا ؟ یہ تغیر تو ارواح کی ترکیب کی راہ بتاتا ہے۔بلکہ یہاں تک تغیر ہوتا ہے کہ آپ کو بھی اپنا پہلا جنم کچھ بھی یاد نہیں۔بھلا بدوں ترکیب کے یہ فاحش تغیر ممکن ہے؟ آج کل سائنس کا دورہ ہے کیمسٹوں سے پوچھ لیجئے یا ڈاکٹروں سے دریافت کیجئے۔غور فرمائیے۔جن لے اور ان کو جو اللہ کے رستے میں مقتول ہوتے ہیں مردے مت کہو بلکہ وہ زندے، پر تم نہیں سمجھتے۔