تصدیق براھین احمدیہ — Page 84
تصدیق براہین احمدیہ ۸۴ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر حدوث ہو تو حرج بھی نہیں۔مگر بحکم علوم متعارفہ نمبر اس حدوث کو ناممکن کہ دیا ہے۔جس علم متعارفہ کی غلطی کو میں آگے ہی لکھ چکا ہوں۔لطیفہ، مکذب صاحب! اپنی دلیل کو منقلب صورت میں بھی سن لیں۔مثلاً آپ بحالت موجودہ جو آپ پر آج بھادوں کے اخیر سم میں طاری ہے۔مرکب ہیں یا غیر مرکب اگر مرکب ہیں تب ظاہر ہے کہ آپ چند مادی پر مانو اور روح سے ترکیب یافتہ ہیں۔اور یہ ترکیب آپ کے اس گل میں پائی جاتی ہے جس کو رام مصنف تکذیب براہین یا مکذب براہین کہا جاتا ہے۔اب آپ کو آپ ہی کے تین چار علوم متعارفہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں آپ کا علوم متعارفہ نمبر’ جوگل میں ہوتا ہے وہی اس کی جزو میں ہوتا ہے۔اور نمبر ” جوگل میں نہیں اس کی جزو میں بھی ناممکن ہے“۔مکذب صاحب! آپ تو مرکب ہیں اور آپ کا کل روح اور پر مانو سے مرکب ہے۔اس لئے بحکم آپ کے علوم متعارفہ نمبر ۱۳ آپ کی روح اور آپ کے پر مانو ( جو آپ کی جزو ہیں ) مرکب ہوں گے اور چونکہ آپ کے کل میں بساطت نہیں اس واسطے آپ کی اس جزو میں جسے آپ روح کہتے ہیں اور آپ کے پر مانو میں بحکم آپ کے علوم متعارفہ نمبر۴ بساطت نہ ہوگی۔بلکہ ترکیب ہوگی اور بساطت کا ہونا ناممکن ہے اور چونکہ آپ کو ( جو مرکب اور کل میں ) موت اور فوت اور فنا آنے والی ہے۔اس لئے بحکم آپ کے علوم متعارفہ نمبر ۴ آپ کی روح پر بھی فنا آنے والی ہے۔کیونکہ آپ نے مانا ہے جو کل میں ہوتا ہے وہ اس کی جزو میں بھی ہوتا ہے۔اس واسطے ثابت ہوا روحیں ازلی اور ا نا دی نہیں۔ارواح کو از لی اور انادی کہنا سچ نہیں اور نہ وہ سچ ہے جو آپ نے اپنی دلیل کے فقرہ نمبر ۴ میں لکھا ہے کہ روحیں مرکب نہیں بلکہ روحیں مرکب اور حادث ہیں اور ارواح عناصر کی خاص ترکیب کا خلاصہ اور مرکب اشیاء کا نتیجہ ہوتا ہے اس لئے ثابت ہوا کہ ارواح یا وجود حدوث کے مرکب ہیں۔ارواح کی حالت کا متغیر ہونا۔ان کے مرکب ہونے کی بڑی بھاری دلیل ہے اور انسانی ارواح کے تغیر سے انکار کرنا بداہت کا انکار ہے۔