تصدیق براھین احمدیہ — Page 80
تصدیق براہین احمدیہ اعتقادلَمْ يَزَلْ خَالِفًا وَرَازِقًا رَحِيمًا وَ مُتَكَلَّما سچ ہے جو بحمد اللہ صرف اہل اسلام کو حاصل ہے۔دلیل نمبر ۵ میں گزارش ہے۔قادر مطلق پر اپنی قدرت ہمیشہ ظاہر ہے۔کبھی پوشیدہ نہیں مگر آپ نے جو کہا کہ اگر ظا ہر تھی تو فعل عبث یہ فقرہ ہی عبث ہے اور لا ریب فعل عبث ہے) کچھ معنی نہیں رکھتا۔دلیل نمبر 4 کی نسبت عرض ہے۔باری تعالیٰ کو کسی الہامی کتاب میں جسم نہیں کہا گیا۔پس آپ کا سارا تارو پود ہی ادھڑ گیا۔دلیل نمبرے میں مکذب نے دو شقیں بیان کی ہیں۔اول ” جب چاہا بنالیا‘ دوم ” جب سے باری تعالیٰ ہے تب سے بنا لیا پہلی شق پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ” خواہش اپراپت یعنی غیر میسر کی ہوتی ہے یہ اعتراض صحیح نہیں۔ارادہ اور خواہش کبھی اپراپت پر ہوتی ہے اور کبھی پراپت ہونے والی یعنی ایسی چیز پر ہوتی ہے جو میسر ہو سکے باری تعالیٰ کی سب خواہشیں چونکہ پراپت اور میسر ہو سکتی ہیں۔اس لئے ایسی خواہش کا ہونا اس میں نقص نہیں بلکہ کمال ہے۔دوسری شق کا بیان فقرہ نمبر ۸ میں کیا ہے۔اس کا جواب ہم وہاں دیتے ہیں۔فقرہ نمبر ۸ میں کہا ہے۔” جب سے خدا ہے تب سے بنایا انا دیت کو ثابت کرتا ہے یہ بھی صحیح نہیں۔کیونکہ دنیا کو اللہ تعالیٰ کا بنایا ہواماننا دنیا کی انا دیت کو باطل کرتا ہے ہر گز ثابت نہیں کرتا جب ہم نے دنیا کا خالق باری تعالٰی کو اعتقاد کیا اور یقین سے کہا کہ وہ تمام دنیا کا آدی مول ہے تو یہ ساری دنیا سرشٹی اس کی رچی ہوئی مانی گئی نہ انادی۔سوچو تو پھر بنانے کی تردید میں آپ نے لکھا ہے۔” صانع اور مصنوع میں تقدم اور تاخر ضروری ہے۔اس واسطے بنانا ثابت نہیں۔یہ نہایت درجہ کا تعجب انگیز فقرہ ہے! اس لئے کہ نقدم اور تاخر کے بہت اقسام ہوتے ہیں ایک تقدم علت تامہ کا اپنے معلول پر اس تقدم سے اللہ تعالیٰ کا اس دنیا کو بنانا اور اس کی علت ہونا اور خالقیت ثابت ہے۔اور یہ تقدم صفت کو موصوف سے علیحدہ کرنے کا باعث نہیں۔اور نہ اس تقدم سے علم کا بغیر معلوم کے ہونا لازم آتا ہے۔سو چونتقدم بھی بالرتبہ ہوتا ہے اور کبھی نتقدم طبعی اور کبھی بالزمان آپ کس تقدم کو سمجھ کر چلا رہے ہیں! اور انشاء اللہ ہم اپنے اُس خط