تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 77

تصدیق براہین احمدیہ جاوے۔وہمی جیسے اندھیری رات اور تنہائی میں بھوت پریت چڑیلوں کے غلط خیال ہوتے ہیں۔نمبر ۳ اگر بالفرض مانا جاوے کہ روحوں کو خدا نے پیدا کیا۔تو فی الفور سوال پیدا ہوتا ہے۔کیوں ؟ اور کس چیز سے اور کب؟ نمبر ۴ اگر یہ جواب دیا جاوے کہ اپنے قدرت کے اظہار کے واسطے اپنے جسم سے کوئی ٹکڑا کاٹ کر جب چاہا بنا لیا یا جب سے خدا ہے تب سے بنالیا‘ نمبر۵ ” تو یہ اعتراض آتا ہے کہ کیا خدا پر اس سے پہلے اس کی قدرت پوشیدہ تھی یا ظاہر۔صورت اول غلط۔صورت ثانی فعل عبث نمبر 4 اور اپنے جسم سے روحیں بنانا بردی اور برآمدی کے نقشہ کی کیفیت ہو جاتی ہے اور ہر ایک روح خدا ٹھہرتے تھے جو خلاف عقائد فریقین ہونے سے باطل ہے۔اور علاوہ بریں اس طرف کمی آ جاتی ہے اور آمدنی کے نہ ہونے سے خدا منقسم ہو جاتا ہے، نمبرے اور ا یہ کہ جب چاہا بنا لیا اور جب سے خدا ہے تب سے بنایا۔دونوں شقوق باطل ہیں کیونکہ چاہا بغیر خواہش کے نہیں ہوتا۔اور خواہش اپراپت کی ہوتی ہے جس سے خدا محتاج اور کمزور ثابت ہوتا ہے جو بموجب مذہب فریقین کے باطل ہے نمبر ۸ ' جب سے خدا ہے تب سے بنایا انا دیت کو ثابت کرتا ہے۔مگر بنانے کی تردید کیونکہ تقدم و تاخر صانع اور مصنوع ضروری ہے اس واسطے بنانا ثابت نہیں ہوتا بموجب علوم متعارفہ نمبر۲ کیونکہ عالم و معلوم و عالم ، لازم ملزوم ہیں اور بموجب علوم متعارفہ نمبر9 کے صفت موصوف سے جدا نہیں ہوسکتی اور نہ بموجب علوم نمبر 1 کے معلومات کے بغیر علم ہوسکتا ہے۔اس واسطے ثابت ہوا کہ روحیں انادی ہیں اور نہ ان کی پیدائش ہوسکتی ہے۔اور یہی مطلب تھا۔مصدق۔دلیل میں تو اپنی شقوق کے طومار لگا دیئے۔مگر روح کے مجرد غیر مرکب اور چین ہونے کی دلیل کا تذکرہ تک بھی نہ کیا۔جو آپ کا اصلی دعوی تھا۔شاید جوش میں آکر اصل مطلب کو بھی بھول گئے۔آپ نے پیدائش کو دو حصوں پر حصر کیا ہے۔ایک اپنے آپ سے دوسرے غیر سے اور ان دونوں قسموں کے معنے بھی دلیل میں بیان فرمائے ہیں۔مگر ہم لوگ اس حصر کے قائل نہیں بلکہ