تصدیق براھین احمدیہ — Page 75
تصدیق براہین احمدیہ کے اس مجمل کلام کا مدعا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب روحیں قدیم نہ رہیں تو پر میشور قدیم ان حادث ارواح کا ان کے حدوث سے پہلے کسی طرح خالق اور ان کا عالم اور ان کا رازق بھی نہ ہو گا۔مگر جناب من میں پوچھتا ہوں یہ اجسام مرکبہ مع ترکیب موجود کے قدم میں موجود تھے یا نہیں؟ اور قدم اور ازل میں آپ کی یہ جون جس کو آپ اس وقت بھوگ رہے ہیں اور وہ جو نہیں جو آپ بعد اس جون کے بھوگیں گے موجود تھیں یا نہیں ؟۔اگر موجود تھیں تو ظاہر ہے کہ آپ کی یہ جون اور اور جو نہیں جو ہوں گی قدیم ہیں کسی عمل کی سزا یا جز انہیں اور نہ الہی خلق ہیں۔اسی سے مسئلہ تناسخ اور مسئلہ سزا جزا کا بکلی استیصال ہو جاتا ہے اور قدم میں اگر موجود نہ تھیں تو ہم پوچھتے ہیں کہ خدا ان سے پہلے ان خاص جونوں کا خالق تھایا نہ تھا؟ اگر تھا تو عالم بدوں معلوم اور رازق بدوں مرزوق اور خالق بدوں مخلوق کیسے ہو گیا؟ اور اگر نہ تھا تو اب کیسے ان کا رازق عالم اور خالق ہو گیا ؟ حالانکہ بقول آپ کے اس کی سب صفات قدیم ہیں ! جناب من اگر روح حادث مانی جاوے تو اللہ تعالیٰ کی صفت آخر اور امر اور اَحنَمَا اور پوتر تا پر کیا نقصان عائد ہوتا ہے؟ پھر ہم کہتے ہیں کہ پر لے کے وقت جب ارواح آپ کے خیال میں بالکل انند میں ہوتے ہیں اور پر مانو بالکل الگ الگ ہوتے ہیں اس وقت باری تعالیٰ کس چیز کا خالق اور کس چیز کا رازق اور کس مرکب کا عالم رہتا ہے؟ اور کس طرح سزا یا جزا دینے والا قرار پاتا ہے؟ یا در ہے صفات کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ایک لوازم ذات جو ذات سے الگ نہیں ہوتے ان کو صفات حقیقیہ اور ذاتی صفات بھی کہتے ہیں اور دوسری صفات اضافیہ یہ صفات بھی ذات کی صفات کہلاتی ہیں مگر بلحاظ کسی اور چیز کے اور تیسری صفات اضافیہ محضہ جن کو عقل اور ادراک ہی صرف لحاظ کر سکتا ہے۔صفات حقیقیہ اور ذاتیہ میں تو ضرور ہے کہ ذات اگر قدیم ہے تو صفات بھی قدیم ہوں۔اور اگر صفات قدیم ہیں تو ذات بھی قدیم ہو۔مگر صفات اضافیہ اور اضافیہ محضہ میں یہ بات نہیں ہوتی۔کیا معنی کہ صفات اضافیہ کے تغیر سے ذات میں تغیر نہیں آتا مثلاً مشاہدہ میں دیکھ لو۔زید عمرو کے آگے بیٹھا ہے پس زید کو تقدم اور عمرو کو تاخر کی