تصدیق براھین احمدیہ — Page 71
تصدیق براہین احمدیہ نواں علم صفت موصوف سے جدا نہیں ہوتی۔مصدق۔یہ بھی اپنے عموم اور اطلاق میں درست نہیں۔کیونکہ صفات دو قسم کی ہوتی ہیں ایک لوازم ذات اور دوسری صفات عرضیہ قسم اول کا جدا ہونا بے شک محال ہے۔مگرفتم ثانی کا جدا ہونا ممکن ہے اور وہ صفات موصوف سے جدا ہو جاتی ہیں۔مثلاً سفید چیز کی صفت ہے سفید ہونا جب اس سفید چیز پر سیاہی پھیر دی جاوے تو اس سفید چیز کو صفت سیاہ کا موصوف کہیں گے حالانکہ وہ چیز صفت سے سفید متصف تھی۔ایک وقت وہ چیز صفت سفید سے موجود تھی جب وہ صفت موصوف سے جدا ہوئی تو پھر وہ موصوف سیاہی سے متصف ہوا۔مکذب کو لازم تھا کہ تفصیل فرماتے۔بدوں تفصیل کے یہ علم غلط ہے یہ بیان کرنا واجب تھا کہ کس قسم کی صفات موصوف سے جدا نہیں ہوتی اور جدائی صفات کے کیا معنے ہیں؟ غور کرو۔میں ایک متکلم بالفعل انسان ہوں اور تکلم بالفعل میری صفت ہے جس وقت چپ ہوں گا اس وقت کوئی بھی مجھے متکلم بالفعل سے موصوف نہ کرے گا۔جب کلام کروں گا پھر متکلم بالفعل ہو جاؤں گا۔دیکھئے تکلم بالفعل کی صفت کبھی مجھ میں موجود ہوتی ہے اور کبھی مجھ سے جدا ہوتی ہے۔پس صفت موصوف سے جدا ہوگئی اور مکذب کا قاعدہ غلط ثابت ہو گیا۔غرض یہ جملہ کہ صفت موصوف سے الگ نہیں ہوتی۔بدوں کسی تفصیل کے اپنے عموم پر میچ نہیں ہوسکتا۔دسواں علم۔علم معلوم کے بغیر نہیں ہوتا“۔مصدق۔یہ علم بھی آپ کے علوم متعارفہ سے تفصیل کا محتاج ہے۔کیونکہ ہر ایک معلوم کا علم بے ریب معلوم کے وجود کا محتاج ہے۔الا کبھی اس معلوم کا وجو دصرف علم میں ہی ہوتا ہے اور کبھی با وجود وجود علمی کے معلوم کو خارجی وجود بھی لاحق ہوتا ہے۔دیکھو وید مہان پر لے کے وقت بقول تمہارے صرف علمی وجود رکھتے تھے اور صرف باری تعالیٰ کے علم میں موجود تھے۔اور اب اس وقت با وجود وجود علمی کے جو علم الہی کے باعث ہے ایک اور وجود بھی رکھتے ہیں مثلاً ان آریوں کے گیانوں میں بھی ان کا وجود ہے یا سرٹی کی ابتدا میں اگنی ، وایو، سورج، انگرہ کی گیان میں اور