تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 58 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 58

تصدیق براہین احمدیہ ۵۸ نہایت راست اور صاف فرمایا ہے اس میں کوئی دور از قیاس بات مندرج نہیں اب میں وہ سارا قصہ نقل کرتا ہوں۔وَيَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُوا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا ( الكهف: ۸۴) تفسیر۔دو سینگ والا وہی ماد، فارس کی بادشاہت جس کا ذکر دانیال ۸ باب ۴ میں ہے۔إِنَّا مَكَثَالَهُ فِي الْأَرْضِ وَأَتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا (الكهف: ۸۵) الارض کا ترجمہ میں نے خاص زمین کیا ہے۔جاننے والے تو اس کا ستر جانتے ہیں مگر ہم کھولے دیتے ہیں کہ الف اور لام عربی لٹریچر میں خصوصیت کے معنی بھی دیتا ہے بلکہ عزرا نبی کی کتاب باب ۱ آیت ۲ سے جس کا ذکر آگے آتا ہے اور بھی قرآن کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمَّةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا (الكهف: ۸۷) تفسیر۔یہ بادشاہ جو دانیال کے خواب میں دو سینگ کا مینڈھا دکھائی دیا اور فارس اور ماد کا حکمران ہوا۔اس کا نام خورس ہے جب وہ بلا دشام اور شمالی غرب کو فتح کر چکا تو بلیک سی یا بحر اسود کا سمندر اور اس کا کالا دلدل آگے آ گیا۔اتنے بڑے سمندر کا کنارہ کیقباد کو کہاں نظر آ سکتا تھا وہاں اُسے سورج سمندر میں ڈوبتا دکھائی دیا قرآن یہ نہیں فرما تا کہ فی الواقع سورج کالے پانی میں ڈوبتا تھا۔بلکہ کہتا ہے کہ اُس نے یعنی ذوالقرنین نے سورج کو کالے پانی میں ڈوبتا پایا۔لفظ وَجَدَهَا تغرب پر غور کیجیئے۔جس کے معنے ہیں پایا اس نے اس کو کہ ڈوبتا ہے۔اور یہ نہیں کہا۔وَكَانَ هُنَاكَ تَغُرُبُ الشَّمسُ کہ وہاں واقعی سورج ڈوبتا تھا۔یہ ایسا نظارہ ہے جسے ہر ایک بحری سفر کرنے والے کی آنکھ نے دیکھا ہے کہ وسیع اور اتھاہ سمندر میں سورج اسی میں سے نکلتا اور اسی میں پھر ڈوبتا دکھائی دیتا ہے۔اسی قدرتی منظر کو جو ذوالقرنین کے پیش نظر واقع ہوا قدرت کی صحیح نقل یعنی قرآن لے تجھ سے ذوالقرنین ( دوسینگ والے) کی بابت پوچھتے ہیں تو کہہ میں ابھی اس کا قصہ تمہیں سناتا ہوں۔سے ہم نے زور دیا اس کو خاص زمین میں اور دیا ہم نے اس کو ہر طرح کا سامان اور وہ تابع ہوا ایک سامان کا۔ے یہاں تک کہ جب وہ پچھتم میں پہنچا اسے ایسا معلوم ہوا کہ سورج دلدل کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔