تصدیق براھین احمدیہ — Page 57
تصدیق براہین احمدیہ ۵۷ بھلائی اور برائی کا نتیجہ پانا ہے کیا یہ دور از قیاس ہے؟ انصاف سے کہیئے بلکہ یہ قصہ تمام بھلائیوں کا مجموعی عطر ہے۔ہاں بت پرست ناشائستہ کج خلق آدمی اس کو دور از قیاس کہے تو ممکن ہے۔رہا سکندر کا قصہ جس کو آپ نے دور از قیاس لکھا ہے۔میں راستی اور خیر خواہی سے عرض کرتا ہوں۔سکندر کا نام تمام قرآن کریم میں ہرگز موجود نہیں۔کسی صحیح حدیث میں رومی سکندر کا قصہ جناب خاتم الانبیاءمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔پھر کہتا ہوں ہرگز سکندر کا قصہ قرآن کریم میں نہیں۔پھر اس رومی سکندر کا جو مشرک اور بت پرست تھا اور آخر کا ر شراب خوری میں ہلاک ہوا ! مجھے یقین ہے کہ یہ خیال آپ کو قرآن کریم کے مطالعہ اور عربی دانی سے نہیں ہوا بلکہ اس موقع پر آپ نے پادری صاحبان یا منشی اندر من صاحب یا کسی اور صاحب کی خوشہ چینی فرمائی ہے آپ نے ذوالقرنین کے قصہ کو جو قرآن میں موجود ہے۔سکندر کا قصہ تجویز کیا اور دھو کہ کھایا۔صاحب من وہ قصه کتاب دانیال کے ایک مشکل مقام کی تفسیر ہے۔سنیئے دانیال کی کتاب میں جو بائبل کے مجموعہ میں ستائیسویں کتاب ہے۔اس کے آٹھ باب ۴ آیت میں حضرت دانیال نبی کا مکاشفہ ہے۔دانیال کی نبوت اور اس کا مکاشفہ آپ کے نزد یک کیسا ہی ہو اور کچھ ہی وقعت کیوں نہ رکھے۔الا یہود اور عیسائیوں میں جو قصہ ذوالقرنین کے سائل اور مجیب کے مخاطب تھے۔یہ مکاشفہ صحیح اور دانیال کی کتاب صحیح اور مسلم ہے اور اس مکاشفہ میں یہ بات مندرج ہے۔تب میں نے اپنی آنکھ اٹھا کر نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ندی کے آگے ایک مینڈھا کھڑا ہے جس کے دو سینگ تھے اور وہ دوسینگ اونچے تھے اور ایک دوسرے سے بڑا تھا۔پھر دانیال کو جبرائیل نے اس مکاشفہ اور خواب کی تعبیر بتائی کہ مینڈھا جسے تو نے دیکھا کہ اس کے دوسینگ ہیں سو وہ ماداور فارس کی بادشاہت ہے دانیال (۸-۲۰) قرآن نے اسی بادشاہ کا تذکرہ کیا اور