تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 55 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 55

تصدیق براہین احمدیہ ۵۵ سوم۔اگر اس ملک کے لوگ وید کے مخالف نہ ہوتے تو غیر مذہب والے یہاں بالکل حکومت نہ کر سکتے۔کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے۔وید وکت ریتی سے ہمیشہ آرام ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ رعایا بننے سے بڑھ کر کوئی بے آرامی نہیں اور غیر ملک والوں کے ماتحت رہنے سے بڑھ کر کوئی ذلت وخواری نہیں۔اگر آپ کے بزرگ دیا نندی پنتھ کے پیرو ہوتے تو بقول آپ کے اس ذلت وخواری میں مبتلا نہ ہوتے۔یا یوں کہا جاوے کہ یوروپین بادشاہ وید وکت ریتی کے مطابق پور بلی جنم میں بزرگ آریہ تھے۔اس جنم میں اپنے نیک اعمال کا پھل بھوگ رہے ہیں اور چونکہ بھلائی کا نتیجہ بھی بھلائی ہوتا ہے اور باری تعالیٰ دھوکہ باز نہیں اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس دولت اور نیکی کو ان کے لئے وبال نہ فرماوے گا یا ویدوں کی دعائیں جو صرف دشمنوں کی تباہی اور ہلاکت کے واسطے تھیں سالہا سال سے بیکار ہو گئیں بلکہ الٹی پڑیں۔پس یا تو دعا ئیں الہامی نہیں یا آپ کے قدیم آریوں کے اعمال نہایت خراب تھے کہ ان کو دنیوی عیش و آرام کے ساتھ اصل ارج دھرم پراپت نہ ہوا۔اصل یہ ہے کہ آپ نے بہ بیت مجموعی کا لفظ جو مرزا صاحب کے کلام میں مندرج تھا نہیں دیکھایا اس پر توجہ نہیں کی۔مکذب " قرآن صرف اقتباس سابقہ کتب کا ہے“۔مصدق۔اس کا مفصل جواب ہم نے رو نصاریٰ میں دیا ہے۔اور آپ کو بھی مختلف مقامات پر اس کا جواب دیں گے۔پھر نمبر صفحہ ۲۰ میں ارقام فرمایا ہے۔لقمان اور سکندر کے قصص نے (دور از قیاس) یونانیوں کی تواریخوں سے جلوہ دکھایا سنیئے صاحب! قرآن نے لقمان کا قصہ جہاں بیان کیا ہے۔اس سورہ کا نام سورہ لقمان ہے جوا کیسویں سپارہ میں موجود ہے۔مہربانی کر کے وہ قصہ سنیئے۔آپ کو اپنے انصاف اور نیک نیتی اور استعداد اور عربی دانی کا خود بخود پتا لگ جائے گا۔