تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 53

تصدیق براہین احمدیہ ۵۳ میرے محسن جناب پادری طامس ہاول بشیر مقیم پنڈ دادنخان ضلع جہلم نے ارقام فرمایا ہے میرے نزدیک وہ مضمون نہایت راستی سے لکھا گیا ہے۔اس مضمون اور اپنی ایک ابتدائی تحریر کو جو اس بحث پر ( لفظ آریہ اور ہندو) کے متعلق ہے جناب پادری صاحب نے دوبارہ بطور رسالہ لکھا ہے۔جزاه الله احسن الجزاء پادری صاحب کی پہلی تحریر کو مرزا صاحب نے بھی فور حق میں نقل کیا اس پر کچھ اور زیادہ کرنا صرف شیخی بگھارنا ہے۔مگر اتنازیادہ عرض کر دینا شاید نا مناسب نہ ہو کہ آپ نے یا آپ کے مصلح نے اس لفظ ہند یا ہندو پر بحث کرنے میں بالکل انصاف سے کام نہیں لیا یہ بحث اس نے مختلف اغراض کے واسطے چھیڑ دی۔میں راستی سے کہتا ہوں کہ مسلمان فاتح لوگوں نے اس نام کو اہانا اختیار نہیں کیا تھا۔عربی کی مشہور لغت کی کتاب قاموس اللغات ہے۔اس میں اس لفظ کے مختلف معنی لکھے ہیں۔دیکھو عمدہ عمدہ معنی اسی لفظ ہند کے واسطے موجود ہیں۔ہند۔سواونٹ کے گلے کا نام ہے اور ایک عورت کا نام بھی جو عمرو نام بادشاہ عرب کی والدہ تھی۔بنو ہندا ایک قبیلہ عرب کا نام ہے ہند ایک پہاڑ کا نام ہے۔تلوار کے تیز کرنے کو بھی ہند کہتے ہیں اس واسطے مُهند اس تلوار کو کہتے ہیں جو بہت ہی تیز ہو۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں ایک آپ کا پیروآ کے سامنے کہتا ہے۔اِنَّ الرَّسُولَ لَنُورٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ - سَيِّفٌ مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوفِ الْهِنْدِ مَسْلُول۔ہندوان ایک نہر کا نام ہے جو خراسان میں واقع ہے ابو جعفر فقیہ ہندوانی ایک بڑے بزرگ مسلمانوں کے مقتدا وہاں کے رہنے والے تھے۔اور تعجب نہیں آریہ کے بزرگ اسی ندی کے کنارے سے آئے ہوں۔اسی واسطے وسط ایشیا کی واقف اور فاتح قوم نے ان کو ہندو کہا ہو۔اور آری لفظ عرب میں کوئی عمدہ مدح کا لفظ نہ تھا کیونکہ عربی آری طویلہ کو کہتے ہیں۔پس کیا تعجب ہے اگر ہمارے بزرگوں نے بجائے لفظ آری ہندو کا لفظ اخلاقی شریعت کے حکم سے زیادہ تر برتا ہو یا اور کوئی باعث خاص ہو جو دل آزاری کے سوا ہے۔اب بھی عرب کے دار السلام مکہ معظمہ میں ہندی