تصدیق براھین احمدیہ — Page 47
۴۷ تصدیق براہین احمدیہ وَاِنْ نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَبِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ وَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا وو اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَهُ وكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبة : ۱۳،۱۲) جنگ جو غضب الہی کا نشان ہے اس میں بھی اسلام نے ہمدردی اور رحم کے اصول کو ترک نہیں کیا۔اسلام جنگ میں بے قصور بچوں، بوڑھوں ، عورتوں، مزدوروں ، جانوروں کو قتل کی اجازت نہیں دیتا۔دشمن جب جزیہ گزار ہو جاوے یا اسلام قبول کرے تو اسلام جنگ کو موقوف کر دیتا ہے اور فاتح ومفتوح برابر ہو جاتے ہیں۔پھر اسلام کو جنگ میں ملک گیری مقصود نہیں فقط تو حید کی وعظ مطلوب ہے اور جنگ بھی جب تک کہ اسلام کے مخالف مذہبی آزادی کو نہ روکیں“۔غور کر لو! جب ابتدائے اسلام میں مسلمان توحید کے اقرار پر بے گناہ قتل ہونے لگے۔گھروں سے نکال دیئے گئے۔توحید کی منادی سے روکے گئے ان کے دشمن با تفاق حملہ آور ہوئے۔دشمنوں نے مدینہ طیبہ، دار النبوۃ کا محاصرہ کر لیا۔اس وقت اسلام نے تلوار پکڑی۔” بتاؤ کیا یہ عقل تھی کہ اسلام اپنے آپ کو معدوم کر دیتا؟ کیا صاحب اسلام اپنی اصل غرض نبوت و رسالت کو چھوڑ دیتا؟۔ایسی ضرورت میں کوئی دانشمند قوم جنگ سے مانع نہیں۔الا اسلام نے پھر بھی اکراہ سے منع کیا۔کیا اگر مشنریوں پر ایسی زیادتی ہونے لگے تو عقل والے خدا ترس با طاقت بادشاہ حملہ آوری نہ کریں گے؟ یہ اسلام ہی کی خوبی ہے کہ جب کوئی حاکم مسلمانوں کے دین میں دخل دے اور ارکان اسلام کو آزادانہ طور پر نہ کرنے دے تو مسلمانوں کا ہر فرد جان دینے کو حاضر اور اس میں مرنے کو شہادت جانتا ہے۔الحمد للہ اسی اصل جہاد کی برکت سے بڑے بڑے سلاطین مسلمانوں کے امور مذہبی میں دخل دینے سے کوسوں بھاگتے ہیں جہاد کے نام سے ان کی روح کا نپتی ہے تعجب ہے اس لے اور اگر وہ عہد کر کے پیچھے اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کفر کے سرداروں سے جنگ کرو۔ان لوگوں کی قسمیں ویسمیں کچھ بھی نہیں تو کہ باز آ جاویں۔کیا وجہ ہے کہ تم ایسے لوگوں سے جنگ نہ کرو جنہوں نے اپنی قسمیں تو ڑ ڈالیں اور اس رسول کے نکال دینے پر ہمتیں لگائیں اور انہوں ہی نے تم سے ابتداء (جنگ) بھی کی۔