تصدیق براھین احمدیہ — Page 305
تصدیق براہین احمد به ۳۰۵ دوم معنی ہیں دنیا میں پھر کر نہ آویں گے۔سوم معنی ہیں وہ شریر جن کو اللہ تعالیٰ نے کھپایا اور ہلاک کیا اپنی شرارت سے پھرنے والے نہیں۔یہ دونوں معنی صحیح ہیں۔تیسرا لفظ حَتَّی کا ہے جو حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجُ (الانبیاء: ۹۷) میں ہے یہ حتی حرف ابتدا ہے فقط جیسے زمخشری اور ابن عطیہ نے کہا ہے۔اس صورت میں حَتَّی کے معنی یہاں تک کرنے صحیح نہ ہوں گے بلکہ یہ کلام علیحدہ ہوگا اور جملہ شرطیہ إِذَا فُتِحَتُ کا جواب فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ كَا اِذَا اچانک کے معنے دیتا ہے جس کو عربی میں مفاجات کہتے ہیں اور یہ اداء فا کی تاکید ہوا کرتا ہے۔یا حتی کا حرف السی کے معنی رکھتا ہے۔پس مطلب یہ ہوگا کہ جن جن بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا ہے یا جوج اور ماجوج کے فتح مند ہونے یا شکست پانے اور قیامت کے نزدیک آجانے تک۔جتنے شریر ہلاک ہو رہے ہیں وہ نہ تو دنیا میں واپس آویں گے اور نہ وہ اپنی شرارت سے باز آویں گے۔ہاں جب دنیا کا کارخانہ ہی ختم ہو گیا اور قیامت آگئی اور جزا وسزا کا وقت آ پہنچا تو سب آجائیں گے جیسے كُلُّ الینا رجعُونَ (الانبیاء: ۹۴) سے ثابت ہو چکا تھا جو پہلے گزر چکا۔معلوم ہوتا ہے مصنف تنقیہ کولفظ حتی سے خیال پیدا ہوا ہے کہ اس کا ماقبل مابعد کے خلاف ہوا کرتا ہے۔مگر اس آیت پر غور کرنا چاہیے۔وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَ أَقَلُّ عَدَدًا (الجن: ۲۵،۲۴) اب ہم تناسخ کے مدعیوں کو جن کو دعوی ہے کہ تناسخ قرآن سے بھی ثابت ہوتا ہے دو تین آیت قرآنیہ سنا کر تناسخ کی بحث کو ختم کرتے ہیں۔