تصدیق براھین احمدیہ — Page 301
تصدیق براہین احمدیہ ۳۰۱ وَانْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى (النجم:۴۱،۴۰) میرے پیارے مخاطبو! ان چند ایمانی احکام پر انگریزوں نے عمل کیا اور تم نے ان احکام پر عمل درآمد سے منہ موڑا۔جن لوگوں نے ان احکام اسلام کو لیا وہ ان احکام کے پھل بھی اٹھا رہے ہیں۔تم نے نافرمانی کی اس کا بدلہ بھی بھگت رہے ہو یہ تو اوامر کی تمثیل ہے۔ایسا ہی الہی نواہی پر نظر کرو۔وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ (الانفال: ۴۷) آیت شریف بالا میں تم کو حکم ہے با ہمی جنگ و جدال چھوڑ دوو الا بودے ہو جاؤ گے۔تمہاری ہوا بگڑ جائے گی۔اس نہی کی تم نے پروانہ کی۔اللہ کے فضل سے تم بھائی بھائی تھے مگر با ہم اعداء ہو گئے۔غرض تم لوگ اپنی نافرمانیوں کے وبالوں میں گرفتار ہو۔ہاں نمازیں پڑھتے ہو روزے رکھتے ہوڑ کو تیں دیتے ہو، حج ادا کرتے ہو اور ان سب سے مقدم تو حید پر ایمان لائے ہو۔اور انگریز مثلاً ان احکام کے منکر ہیں تو ان اعمال کے ثمرات تم ہی اٹھاؤ گے۔انگریز ان کا پھل نہ لیں گے غرض جو شخص جس قسم کا بیج بوئے گا اس قسم کا پھل اٹھائے گا۔لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ (البقرة: ۲۲۱،۲۲۰) کی صداسن کر صحابہ کرام اور ان کے اتباع عظام نے دین اور دنیا دونوں حسنات کا بیج بویا تھا۔دونوں کا پھل اٹھایا۔پینتیسواں جواب۔نیک شخص کے دو پہلو ہیں ایک جہت میں وہ اللہ تعالیٰ کا محب اور ایک جہت میں باعث اپنی نیکیوں کے اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے۔نیک پر تکالیف کا آنا ممکن ہے کہ محبت کی جہت سے ہو نہ محبوبیت کی جہت سے اور انعامات محبوبیت کی جہت سے ہوں نہ محبّ ہونے کی وجہ سے۔لے آدمی کو اپنی سعی و کوشش کا نتیجہ ملا کرتا ہے۔اور اپنی کوشش کے نتائج کو دیکھے گا۔سے آپس میں مت جھگڑا کر و۔باہمی اختلافات سے بودے ہو جاؤ گے اور تمہاری عزت و ہوا اڑ جائے گی۔سے تو کہ تم دنیا اور آخرت میں فکر کرو۔