تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 299 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 299

تصدیق براہین احمد به ۲۹۹ دوئم۔لڑکے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جان بوجھ کر کسی برائی کے مرتکب ہوا کرتے ہیں اور اسی کی سزا میں گرفتار ہوتے ہیں۔یا تو اس لئے کہ برائی کی مرتکب ان کی روح ہے اور ان کی روح چین ہوشیار اور ان کی کمزوری کے وقت ایسی گن، کرم اور سبھاؤ کے ساتھ ہے جیسے جوانی کے وقت۔اور یا اس لئے کہ جس قدر کے وہ لڑکے ہیں اور جس قدر ان کے جسم اور عناصر کی استعداد ہے اس قدر کی سمجھ والی ان کی روح بھی ہے۔پھر جیسے چھوٹی سی چیونٹی بھی روح اور سمجھ کا ایک مقدار رکھتی ہے اور سمجھ کے خلاف مرتکب بھی ہوتی ہے۔اسی طرح وہ لڑکے بھی جن کو بیمار دیکھتے ہو۔اپنی وسعت سمجھ کے موافق کسی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں۔جب ہم عقلا اور حکما اور بڑے بڑے سمجھ والوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ بھی عقل اور سمجھ کے خلاف کرتے ہیں اور اس کی سزا پاتے ہیں بھلا چھوٹی سی عقل کے بچے ایسا کیوں نہ کرتے ہوں۔بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں۔لڑکوں کو کچھ بڑی تکلیف نہیں ہوتی۔اور اس کے والدین و مربی اپنے اسی جنم کے اعمال کی سزا بھگت لیتے ہیں۔اور جائز ہے کہ ایسے لڑکوں کو آئندہ ابد الآبادزندگی میں ترقی کا سامان مل جاوے۔تیسواں جواب۔نیکی کا اثر اگر چہ عمدہ ہوتا ہے مگر نیک اپنی نیکی پر کبھی تکبر کرتا نیکی کو ریا اور لوگوں کو دکھلانے کے واسطے بجالاتا ہے۔کمزور لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اور بدی کا اثر اگر چہ بُرا ہونا چاہئے مگر بد کار اپنی بدکاری پر جب نظر کرتا ہے تو بارگاہ الہی میں عجز وانکسار، اضطراب، شرمندگی ظاہر کرتا اور دعائیں مانگتا ہے۔اس لئے نیک اپنی نیکی کو تباہ کر دیتا ہے اور بدکار بدی کے بعد مقرب بارگاہ الہی ہو جاتا ہے۔تب جس کو ہم اور تم عام نگاہ کے لوگ نیک سمجھتے تھے دکھی دیکھتے ہیں اور بد کار کو سکھی۔اور اپنے غلط تو ہمات سے اگر کہہ دیں کہ یہ تکلیف نیک پر اس کے پور بلے جنم کا پھل ہیں اور یہ آسائشیں بد کار کو اس کے پور بلے جنم کا پھل ہیں تو ہمارا