تصدیق براھین احمدیہ — Page 282
تصدیق براہین احمدیہ ۲۸۲ پانچواں جواب۔اگر آریہ اس پر از راہ انصاف غور کریں تو کسی قدر لطیف اور داد کے قابل ہے۔موجودہ اشیا میں اس تفرقہ سے بڑھ کر ایک بڑا تفرقہ ہم دیکھتے ہیں اور اس بڑے تفرقہ کا باعث پہلے جنم کی جزا و سزا نہیں اور اس امر کو دیا نندی آریہ صاحبان آپ بھی تسلیم کریں گے۔سنو۔ارواح ایک چیتین وستو یعنی عالم ہوشیار چیز ہے۔اور پر کرتی بلکہ پر مانو۔یعنی اجسام صغیرہ اور نہایت باریک ذرات جن کو عربی علوم طبعیہ کے عالم اجسام ذیمقراطیسی کہتے ہیں۔ایک جڑھ اور غیر ذی شعور چیز ہے اور باری تعالیٰ علیم وخبیر ، عزیز و غالب القدوس السلام ایک تیسری چیز ہے۔جو ان دونوں اول الذکر ارواح اور اجسام بلکہ کال یعنی زمانہ پر حکمران ہے۔دیانندی آریہ صاحبان بلکہ تمام تناسخ کے ماننے والو! ان تین اشیا موجودہ میں اول روحیں جنم سے کیا ازل سے بقول آریہ اللہ تعالیٰ کے ماتحت اور اس کی صفت عدل کے باعث جزا وسزا میں گرفتار ہیں اور بقول تناسخ کے ماننے والوں کے بلکہ دیا نندی آریہ کے ابد الآباد تک اسی طرح گرفتار رہیں گی۔اگر مہان پر لے کے وقت یا اس سے کسی قدر پہلے اور پیچھے اجسام سے الگ ارواح آرام و راحت میں بھی رہے تو اس وقت بھی تخم کی طرح برائی ان میں بنی رہتی ہے۔جس کے باعث ارواح کو پھر جنم لینا پڑتا ہے۔اور دوم پر مانو بے چارے تو ازل سے ابد تک بھی بقول آریہ کے محروم ہی رہیں گے اور سوم اللہ تعالیٰ ازل سے ابد تک ہمیشہ ان پر حکمران رہا اور ہمیشہ ان پر حکمران رہے گا۔اب ہم تناسخ والوں کی دلیل کی طرف توجہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں ان تین میں بعض اشیاء جنم سے کیا ہمیشہ سے لنگڑے اور بعض اشیاء جنم سے کیا ہمیشہ سے جزا اور سزا میں گرفتار اور ایک اغنی اور ان دونوں پر حکمران جل شانہ۔اب آپ کی دلیل تناسخ کو بعینہ لے کر کہتے ہیں دیکھو اثبات تناسخ بحث کی ابتدا میں ”جو کہو پر میشر کی مرضی تو کیا وہ عادل نہیں پس بجز نتیجہ سابقہ جنم کے اور کیا کر سکتے ہو۔لیکن تم آریہ اور تمام قومیں اللہ تعالیٰ کو ماننے