تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 281 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 281

تصدیق براہین احمد به ۲۸۱ تیسرا جواب۔دنیا میں ہم یہ تفرقہ تو دیکھتے ہیں کہ ایک جنم کا بیمار ہے اور دوسرا تندرست۔ایک جنم سے دولتمند ہے اور دوسرا غریب اور مفلس۔اور دنیا کا تمام کارخانہ اور اس کا تمام انتظام چونکہ ایک علیم وحکیم کی زبر دست طاقت اور صفات کا نتیجہ اور اثر ہے۔پس ہمیں یقین ہے کہ یہ تفرقہ بے وجہ و بے حکمت نہ ہو گا مگر یہ کیا ضروری ہے کہ اس غیر محدود کی کل بار یک حکمتیں اور بے تعداد تدبیریں ایسی ہوں کہ انسانی محدود عقل اور سمجھ ان پر حاوی ہو جاوے؟ یا درکھوکسی کی بصر اور بصیرت اس کو احاطہ نہیں کر سکتی اور وہ سب پر محیط ہے قرآن فرماتا ہے۔لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام: ۱۰۴) اور فرمایا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاء (البقرة: ۲۵۶) اور فرمایا ہے يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا (طه: ۱۱۱) چوتھا جواب۔کسی کا بیمار ہونا اور کسی کا تندرست کسی کا آسودوں کے گھر جنم لینا اور کسی کا مفلسوں کے گھر میں جائز ہے۔اعمال کے سوا کسی اور وجہ سے ہو۔پس بائیس احتمال اواگون ماننے والوں کا استدلال صحیح اور تام نہیں۔پس ہم ان کو کہتے ہیں کوئی ایسی عقلی دلیل لاؤ جس سے ثابت ہو جاوے کہ ایسے تفرقوں کا اعمال کے سوا اور کوئی باعث نہیں۔صرف اعمال ہی اس تفرقہ کا باعث ہیں۔بلکہ بہ تعمیل ارشاد قرآنی جو ذیل میں ہے کہتے ہیں کو ئی علمی دلیل لا ؤانکلوں اور گمانوں سے کام نہ لو کیونکہ سچ ہے جس میں لکھا ہے۔قُل هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتَخْرِجُوْهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلا الظَّنَّ وَإِنْ اَنْتُم إِلَّا تَخْرُصُونَ (الانعام: ۱۴۹) ے اس کو آنکھ ادراک نہیں کرتی اور وہ آنکھوں کو ادراک کرتا ہے اور وہ لطیف و خبیر ہے۔سے ان کے آگے اور پیچھے کی سب چیزوں کو جانتا ہے اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکے مگر جو وہ آپ چاہے۔کہ تمہارے پاس کوئی علم ہے تو ہمارے پاس نکال لاؤ تم تو ظن کی پیروی کرتے ہو اور انکلیں دوڑاتے ہو۔