تصدیق براھین احمدیہ — Page 27
تصدیق براہین احمدیہ ۲۷ دیتا ہے۔یعنی جنت کے سموات اور والسموتُ مَطویت کے الف و لام سے دنیا کے سموات مراد ہیں جو فنا ہو جائیں گے دیکھو آیت يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (إبراهيم: ۴۹) تکذیب براہین احمدیہ صفہ نمبر ۲ و ۳، قرانی کرانی پرانی۔تمام الخ مصدق براہین۔ناصحانہ گزارش پرداز ہے۔مکذب برا مین! اپنی بے باکی کے نتائج پر جو آپ کے دور از اخلاق کلمات ہیں سلیم کانشنس یا بے تعصب فطرت کے ساتھ یا غضب اور طمع سے ذرہ الگ ہو کر نظر ثانی کر کے دیکھئے اور زیادہ نہیں اس وقت بقدر امکان راستی اور راستبازی کی خوبی آپ کے مدنظر رہے۔پھر کہتا ہوں منصفانہ نگاہ سے دیکھئے قرآن کریم مناظرات اور مباحثات کے وقت کیا پسندیدہ طرز سکھاتا ہے اور تہذیب و شرافت سے کام لینے کے فوائد کیسی حکیمانہ تدبیر سے بیان فرماتا ہے۔مکذب! آپ اپنی بناوٹ سے بے ریب کسی قدر معذور ہیں مگر انسانی ملکی قوی۔اللہ کریم نے آپ کو بالکل محروم نہیں رکھا۔پس آپ پر فرض ہے کہ اُن سے بھی کام لیا کریں اللہ کریم نے اگر چاہا۔آہستہ آہستہ بتدریج وہ قوی ہو جاویں گے۔انسانی گروہ کمزور ہے۔اس میں ایسے بھی گزرے جو ” کلوخ انداز را پاداش سنگ است کا فتوی دے گئے۔میں ان کے کہے پر عمل کرتا تو بدلہ میں گالی گلوچ کی مجھے بھی اجازت تھی مگر قرآن کریم نے میری دستگیری فرمائی جہاں فرمایا۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقُهَا إِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ (حم السجدة: ۳۶،۳۵) غور کر وقرآن کریم کی تہذیب کیسی ہے۔ٹھوکر کھانے کے اسباب ہیں جو بغض آلود دل کی تو بری بات کو نیک بات کے عوض میں ٹال دے۔تب جلد تیرا دشمن بھی دلی دوست ہو جاوے گا۔اس کام کا ذمہ اٹھانا بڑی برداشت والوں کا کام ہے۔اور اسے بڑے حظ والے اختیار کرتے ہیں۔