تصدیق براھین احمدیہ — Page 272
تصدیق براہین احمدیہ ۲۷۲ مصدق منشی مکذب! قرآن نے اپنی راستی سچائی اور قرآن کے منجانب اللہ ہونے کے دلائل میں یہ دلیل بھی دی ہے کہ اس میں اختلاف نہیں جیسے فرمایا۔لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثیرا (النساء: ۸۳) کیا معنی اگر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس علیم و خبیر کی کلام نہ ہوتا تو اس میں بہت ہی اختلاف ہوتا۔حالانکہ اس میں ایک ذرہ بھر بھی اختلاف نہیں ہے۔مکذب! آپ نے توریت شریف اور انجیل شریف کے اختلافات جس قدر ارقام کئے ہیں ان کا جواب اس وقت میں نہیں دیتا کیونکہ آپ نے با تخصیص ہم سے جواب طلب کیا ہے عیسائیوں کے متعلق اعتراض کا جواب عیسائی دیں گے۔دیکھو صفحہ ۴ تکذیب اور تکذیب صفحہ نمبر ۸۵۔اپنے اختلافات کے بیان کرنے سترہ نمبر اختلافات کے بیان کئے ہیں۔ان میں صرف نمبر ۳ اور نمبر ۱۵ اور نمبر ۱۶ اور نمبر ۱۷۔پانچ اختلاف قرآن کریم کے متعلق ہیں۔نمبر ۳ جب خاوند چاہے طلاق دے سکتا ہے۔( یہ پہلا اختلاف ہے)۔اول۔قرآن میں یہ حکم نہیں۔رکوع یا آیت کا پتہ دیکھیئے۔علی العموم خاوند جب چاہے عورت کو طلاق دے دے۔یہ قرآن کا حکم نہیں۔ہاں یہ حکم اگر کچھ شرائط کے ساتھ ہو تو جدا امر ہے۔دوم۔اگر مان لیں کہ قرآن میں یہ حکم ہے تو اس میں اختلاف کیا ہوا۔یہ تو ایک حکم ہوا اس کا مخالف حکم کہاں ہے؟ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَلى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ( النساء : ٢٠) خیال کرو خاوندوں کو بیبیوں کے ساتھ کس حکمت کے ساتھ عمدہ نباہ کا حکم ہوتا ہے قرآن فرماتا ہے اگر کسی اتفاق سے بی بی مکروہ بھی لگے تو بھی پسندیدہ سلوک کرو اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ بہت ہی بہت بہتری ان بیبیوں میں رکھے گا۔غور کرو! قرآن ماننے والا ، خدا کے وعدوں کو سچ یقین