تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 255 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 255

تصدیق براہین احمدیہ لینا ہے تو اپنی کتاب کے کامل ہونے کا دعویٰ مت کرو۔غرض اگر صداقتوں کا یکجا جمع ہونا اور ان کا مدلل ہونا عقلا کے نزدیک کوئی ضروری امر ہے۔اور ہے تو قرآن کریم کا نازل ہونا بھی ضروری ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ موجود ہے ایک ضروری مسئلہ ہے جس پر قرآن نے یہ دلیل دی ہے۔إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ نَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (ال عمران: ١٩١) اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ایک دوسرا مسئلہ ہے۔اس پر قرآن فرماتا ہے۔لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةً إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا (الانبياء: ٢٣) قرآن کے کلام الہی ہونے کی دلیل فرماتا ہے۔إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ (البقرة:۲۴) اور فرماتا ہے۔قُل نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوْا بِيشِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا (بنی اسرائیل:۸۹) اور فرمایا ہے وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء:۸۳) یاد رہے اختلاف دو قسم کا ہوا کرتا ہے اول یہ کہ ایک آیت دوسری آیت کے خلاف ہو۔دوم یہ کہ کوئی قرآنی مضمون نیچرل فلسفی یا کسی بچے علوم کے خلاف ہو۔قرآن میں ہر دو قسم میں سے کسی قسم کا اختلاف نہیں اس تیرہ سو برس میں نیچرل فلسفی کی کتنی سر توڑ ترقی ہوئی۔مگر کچھ بھی قرآنی بیان کی غلطی ثابت نہ ہوسکی۔ہاں عامہ قر آنی دلائل کوتو عامه علماء اسلام اور متکلمین ملتِ خیر الانام علیہ وآلہ الصلوۃ والسلام بیان کرتے رہے اور کرتے ہیں اور کریں گے مگر قرآنی آیات بینات تو لے اگر زمین و آسمان کے درمیان ایک اللہ کے سوا کئی اور معبود بھی پوجے جاویں تو یہ دونوں خراب ہو جاویں۔کیونکہ جہالت، وہم پرستی ، نفاق و شرارت ، بت پرستی کالازمی نتیجہ ہے۔اور ان باتوں سے اس آبادی میں ویرانی کا آجانا ضروری ہے۔ے اگر اس کتاب میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر اتاری تم کو کچھ تردد ہے۔اور تمہارے خیال میں ہے کہ اس شخص نے خود ہی بنالی ہے۔تو مصنوعی مصنوعی ہو سکتی ہے۔اس کی مثل ایک سورہ بنالا ؤ۔سے تو کہہ دے کہ اگر تمام جن اور آدمی اس امر پر تل جاویں کہ قرآن کی سی کتاب بنالیں۔تو ہرگز اس کی مثل نہ بنا سکیں گے۔اگر چہ ایک دوسرے کی پیٹھ بھریں۔اور باہم مددگاری کریں۔کیونکہ قدرتی مصنوعی نہیں ہوسکتی۔اگر قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور شخص کا بنایا ہوتا تو اس میں تھوڑا کیا بہت ہی اختلاف ہوتا۔