تصدیق براھین احمدیہ — Page 244
تصدیق براہین احمدیہ ۲۴۴ کا عہدہ رسالت و نبوت کا عطا کرنا ایک خاص شخص کی نسبت ہمارافضل ہے۔اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل بے ثمر و ضائع نہیں ہوسکتا۔اس لئے کہ ہمہ قدرت ہمہ طاقت کا فضل ہے۔اگر ایک شخص کے حال پر باری تعالیٰ کی نظر عنایت ہو اور اللہ تعالیٰ اسے معزز وممتاز ہادی اور رسول بنانا اور اسے قرآن جیسی کتاب دینا چاہے اور پھر رسول نہ بنا سکے اور قرآن جیسی کتاب نہ دے سکے تو کیا اللہ تعالیٰ قادر مطلق کی طاقت بے کار نہ ہوگی ؟ اس ہمارے سید ابن ابراہیم علیہم الصلوۃ والسلام کی نسبت جب آپ کے پہلے مخاطبوں میں سے چند نا سمجھ اور نا عاقبت اندیشوں نے اس قسم کا اعتراض کیا تھا تو وہ دوگروہ تھے۔عرب کے قدیم باشندے اور یہود، دونوں کو قرآن کریم میں اس طرح جواب دیا گیا۔اول عربوں کے سوال کو اس طرح نقل فرمایا ہے۔وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف:۳۲) اور جواب میں فرمایا ہے آهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمُنَابَيْنَهُمْ فَعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ (الزخرف:۳۳) اس سوال و جواب میں ایک لطیفہ غور کے قابل ہے۔اُمی ، ان پڑھ عربوں نے یہ تو نہ کہا کہ رسول کیوں ہوا؟ اور اللہ تعالیٰ نے کیوں رسول کر کے بھیجا؟ کیونکہ آخر اتنی تو سمجھ رکھتے تھے کہ لے اور عربوں نے کہا یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اترا۔کے قرآن کا نازل ہونا قرآن کالا نے والا ہونا تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ دنیا کے گزارے میں یہی تو ہم نے ہی تقسیم کر رکھی ہے اور بعض کو بعض پر مختلف درجوں کے فضائل دے کر عزت بخشی ہے تو کہ ایک دوسرے کے کام آویں۔بادشاہ رعایا کا خادم اور رعایا بادشاہ کی خدمتگذار۔جب ظاہری دنیا و دولت کی تقسیم ان لوگوں کی تجویزوں پر نہیں تو نبوت و رسالت والا تو ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے جس کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔کیا اس رحمت و فضل کو یہ لوگ اپنے ناقص عقل پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔