تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 242 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 242

تصدیق براہین احمدیہ انْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ ۲۴۲ أَفَرَيْتُهُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ کرتے ہیں تب ابراہیم نے جواب میں کہا سنو ! تم بت پرستی کے فَإِنَّهُمْ عَدُو لِي إِلَّا رَبَّ معتقد تو کہا کرتے ہو کہ جن کی پرستش ہم کرتے ہیں اگر ہم چھوڑ الْعَلَمِيْنَ الَّذِي خَلَقَنِی فَهُوَ بیٹھیں تو شاید ہمیں دکھ دیں۔سنو ! جن لوگوں کی تم نے اور تمہارے يَهْدِيْنِ وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي باپ دادا نے پرستش کی وہ سب کے سب مجھے بُرے لگتے ہیں۔اور وَيَسْقِيْنِ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ وَالَّذِي يُميتنى ثُمَّ اللہ تعالیٰ رب العالمین کے سوا کوئی بھی مجھے پیارا نہیں۔وہی رب يُحْيِينِ وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ جس نے مجھے پیدا کیا۔اور وہی میرا راہ نما ہے اور مجھے منزل مقصود يَغْفِرَ لِي خَطِيئَنِي يَوْمَ الدِّينِ رَبِّ هَبْ فِي حُكْما تک پہنچانے والا۔وہی جو مجھے کھانا دیتا ہے اور پانی پلاتا ہے۔اور والْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ جب کبھی اپنی غلطی سے بیمار ہوتا ہوں تو فضل سے شفا بخشتا ہے۔وہی وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ وَاجْعَلْنِي مِنْ جو مجھے مارے اور پھر جلا دے۔وہی جس پر مجھے امید ہے کہ بُرے وَرَقَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ اعمال کی سزا اور نیک اعمال کی جزا کے وقت مجھے معافی دے گا۔وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الصَّالِينَ وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ اے میرے رب ! مجھے سمجھ عطا کر اور بھلے لوگوں کے ساتھ رکھ اور يُبْعَثُونَ يَوْمَ لا ينفع مجھے اپنی انعام والی جنت کا وارث کر۔اور میرے باپ پر عفو کر۔مَالُ وَلَا بَنُوْنَ إِلَّا مَنْ سَلِيمٍ الَی اللہ بِقَلبِ سلیم وہ تو بھولا اور بہک گیا اور مجھے قیامت میں ذلیل نہ کر۔قیامت کا وَاز لِقَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ وہ دن ہے جس میں مال اور اولاد کام نہ آوے۔مگر وہی نجات (الشعراء: ا۷ تا ۹۱) پاوے جو اللہ تعالیٰ کے پاس سلامت والے دل کے ساتھ آیا۔مکذب۔ضرورت الہام پر دلائل قاطع کا لکھنا بعد ملاحظہ کل قرآن شریف کے ہر چند غور وفکر سے دیکھا گیا۔کوئی ضرورت الہام قرآن کی بپا یہ گمان نہ پہنچی۔چہ جائیکہ ثبوت واطمینان سوائے قصہ جات مذکورہ بالا کے اگر کوئی عمدہ بات قرآن شریف سے ثابت کرے جو وید مقدس میں نہ ہوتب ہمیں بھی موقعہ کلام کا ہو۔“ مصدق۔ایک پادری نے قرآن کریم کی عدم ضرورت پر ایک رسالہ بنام عدم ضرورت قرآن