تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 236 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 236

تصدیق براہین احمدیہ ۲۳۶ ہر دہم۔غلامی کی پرانی رسم کے استیصال کی ہدایت فرمائی فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ جب کفار سے تم معرکہ آرا ہو تو ان دشمنوں کی گردنیں مارو، یہاں حَتَّى إِذَا اثْخَتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنَّا تک کہ تم فتمند ہو جاؤ پھر دشمنوں کو قید کرلو۔آخر احسان کر کے چھوڑ بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارها دو یا جرمانہ لے کر رہا کرو۔(محمد:۵) پھر اس پر ہی اکتفا نہیں فرمایا۔بلکہ اور جگہ کے گرفتار غلاموں کے رہا کرانے کے واسطے اس مذہبی چندہ میں جس میں ہر ایک مسلمان کو جو پچاس باون روپیہ کا بھی مالک ہو۔اسی اڑھائی روپیہ فیصدی کے حساب سے دینے پڑتے ہیں۔ایک رقم غلام آزاد کرنے کی بھی قائم کی۔بدوں اسلام کے کسی مذہب نے یہ تدبیر تجویز کی ہو تو کوئی نشان دے بلکہ ماورا اس کے اور بہت سی تدابیر قائم کیں جن کے ذریعہ غلام آزاد کئے جاویں مثلاً فرمایا۔إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلفقراء و خیرات تو فقیروں ، مسکینوں، اور صدقات کے کارکنوں اور ان کافروں الْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُھر کا جن کو اسلام و مسلمانوں سے لگاؤ ہے حق ہے صدقات کو غلاموں وَ فِي الرَّقَابِ وَالْعُرِمِينَ کے آزاد کرنے اور جن پر خاص آفتیں آئی ہیں ان کی امداد دینے اور وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِنَ اللهِ خدائی کا موں جہاد و غیرہ اور مسافروں کی مددگاری میں خرچ کرو۔یہ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ امر اللہ کی طرف سے نہایت ضروری ہے اور اللہ تعالی علم والا ہے۔(التوبة: ٢٠) وَالَّذِينَ يُظْهِرُونَ مِنْ جولوگ اپنی بیبیوں کو ماں کہ بیٹھے اور انہیں الگ کرنا چاہتے ہیں پھر نِسَآبِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ من اس بات پر نادم ہوئے ان پر لازم ہے کہ بی بی کے پاس جانے سے پہلے غلام آزاد کریں وغیرہ وغیرہ قَبْل أَن يَمَاشا (المجادلة:۴)