تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 226

تصدیق براہین احمدیہ ۲۲۶ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا او ایمان والو! ہر ایک معاملہ کولکھ لیا کرو جس کے لئے کوئی میعادی تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبُ معاہدہ ہو اور ہر ایک کو نہ چاہئیے کہ معاہدوں کو لکھا کرے بلکہ چاہیئے کہ بيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ معاہدہ کو وہ شخص لکھے جو ایسے معاملوں کا لکھنے والا ہو۔اور معاہدہ کو اس وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبُ كَمَا عَلَّمَهُ اللهُ فَلْيَكْتُبُ انصاف کے ساتھ لکھے جس میں ضرورت کے وقت تمسک میں نقص نہ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ نکلے۔اور تمسک نویس کو تمسک کے لکھنے میں کبھی انکار نہ ہوا کرے۔الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّة وَلَا يَبْخْ مِنْهُ شَيْنا فان کیونکہ کا تب کو اللہ تعالیٰ نے فضل سے ایسا کام سکھایا۔پس چاہیئے کہ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقِّ تمسکات کو لکھے اور لکھاوے وہ جس نے دینا ہو۔اور ضرور ہے کہ سَفِيهَا أَوْ ضَعِيفًا أَوْلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ تُمِل هُوَ لکھاتے ہوئے لکھانے والا اللہ سے ڈرتا رہے۔اور ذرہ بھی اس میں وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ فَيَميلُ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ کمی و قص نہ کرے۔اور اگر لکھانے والا کم عقل اور بچہ اور لکھانے کے رِجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ قابل نہیں تو اس کا سر براہ انصاف و عدل کے ساتھ لکھاوے۔اور اپنے يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ قَ معاملات پر دومرد گواہ بنالیا کر واگر دومرد گواہ نہیں سکیں تو ایک مرد اور دو امْرَاتْن مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاء اَنْ تَضِل عورتیں، دو کا فائدہ یہ ہے کہ اگر ایک ان میں سے کچھ بھول گئی تو دوسری احدهما فَتُذَكَّر اسے یاد دلائے گی۔اور گواہ بلانے پر انکار نہ کریں۔اور ایسے سست نہ إحْدُهُمَا الْأُخْرَى وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءِ إِذَا مَا دُھوا نیو کہ تھوڑایا بہتا میعادی معاملہ لکھنے میں چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ کے یہاں وَلَا تَسْمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ یہ انصاف کی باتیں ہیں۔اور جہاں گواہی کی ضرورت پڑے گی وہاں صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذلِكُمْ أَقْبَطَ عِنْدَ اللہ یہ باتیں بڑی مفید پڑیں گی۔اور ایسی تدابیروں سے باہمی بدگمانیاں أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا أَن تَكُونَ جاتی رہیں گی۔ہاں دستی لین دین اور نقدی کی تجارت میں تحریر کے نہ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى تِجَارَةً حَاضِرَةً ہونے سے گناہ بھی نہیں مگر ہر ایک سودے میں گواہوں کا پاس ہونا تو تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمُ فَلَيْسَ علیکم جناح الا ضرور چاہئے (اگر اس پر عمل ہوتا تو چوری کی چیزیں لینے میں پولیس کی عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوا إِذَا گرفتاری سے بہت کچھ امن ہو جاتا )