تصدیق براھین احمدیہ — Page 202
تصدیق براہین احمدیہ ۲۰۲ قال امام الائمة ابن خزيمة ان هذه القصة من وضع الزنادقة - (تفسير البغوى ، معالم التنزيل زير آيت الحج: ۵۳) قال الرازي هذه القصة باطلة موضوعة لا يجوز القول بها - (الفجر الساطع على الصحيح الجامع محمد الفضيل بن محمد ا قال الله تعالى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم: ۵،۴) بسی الفاطمي) و قال الله تعالى سَنُقْرِيكَ فَلَا تَنْسَى ولا شك ان من جوز على الرسول تعظيم الاوثان فقد كفر لان من المعلوم بالضرورة ان اعظم سعيه كان فى نفى الاوثان - تفسير السراج المنير سورة الحج) قال ابن كثير في تفسيره: ان جميع الروايات فى هذا الباب اما مرسلة او منقطعة لا تقوم الحجة بشيءٍ منها ـ ثم قال فقد عرفناك انها جميعها لا تقوم بها لحجة لانه لم يروها احد من اهل الصحة ولا اسندها ثقة بسند صحيح او سليم متصل (فتح البيان مختصرًا) و قال في الكبير رُوِيَ عن محمد بن اسحاق بن خزيمة انه سئل عن هذه القصة فقال هذا وضع من الزنادقة وصنّف فيه كتابًا۔مکذب براہین صفحہ نمبر ۷۸ میں لکھتے ہیں۔اور اپنشدوں کے مخفی رکھنے میں یہ مصلحت تھی اور اہل اسلام سے چھپانے کا یہ مطلب تھا کہ وہ تعصب و جہالت سے غیر مذہب کی کتب کو جلا دیا امام الائمہ ابن خزیمہ کہتے ہیں کہ اس قصہ کو زندیقوں نے وضع کیا ہے۔امام رازی کہتے ہیں۔یہ قصہ جھوٹا بناوٹی ہے اس کا ماننا نا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نبی اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا یہ تو وہی کہتا ہے جو اس کے دل میں وحی کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عنقریب ہم تجھے قرآن پڑھاتے ہیں۔پھر تو اسے فراموش نہ کرے گا جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ کہنا روا ر کھے کہ آپ نے بتوں کی تعظیم کی ایسا شخص بے شک کافر ہے۔اس لئے کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بھاری کوشش بتوں کا نابود کرنا تھا۔ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس باب میں جتنی روایتیں ہیں یا تو مرسلہ ہیں یا منقطعہ ہیں اور ایسی روایتیں حجت نہیں ہوا کرتیں۔پھر امام صاحب فرماتے ہیں ہم تجھے سمجھا چکے ہیں کہ یہ تمام روایتیں حجت پکڑنے کے قابل نہیں ہیں۔کیونکہ اہل صحت میں سے کسی نے انہیں روایت نہیں کیا۔اور نہ کسی ثقہ نے سند صحیح یا سلیم متصل سے انہیں اسناد کیا۔اور امام صاحب تفسیر کبیر میں کہتے ہیں۔محمد بن اسحق بن خزیمہ سے روایت ہے کہ اس سے اس قصہ کی بابت سوال کیا گیا۔اس نے جواب دیا کہ زندیقوں نے اسے گھڑا ہے اور اس نے اس بارہ میں ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔