تصدیق براھین احمدیہ — Page 191
تصدیق براہین احمدیہ ۱۹۱ وَعَجِبُوا أَنْ جَاءَهُمْ مُنْذِرُ مِنْهُمْ وَقَالَ الْكَفِرُونَ هَذَا سُحِرٌ كَذَّابٌ اجَعَلَ الْأَلِهَةَ الْهَا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَاب وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ آنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى الهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ يُرَادُ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقُ (ص: ۵تا۸) اور ایک جگہ آیا ہے وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَّا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمُ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمُ إِلَّا يَظُنُّونَ (الجاثية :۲۵) لات ، عزی اور منات وغیرہ کی پرستش کا تو مکذب کو بھی انکار نہیں ہوگا کیونکہ مکذب نے تکذیب کے صفحہ نمبر ۷۵ میں ایک نوٹ لکھا ہے جس کی پہلی سطریہ ہے۔یہ خبر چاروں طرف مشہور ہوگئی کہ اب بت پرستوں کے ساتھ محمد صاحب نے صلح کرلی“ اس تقریر سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس وقت عام عرب مشرک بت پرست تھے۔پس مکذب کا کہنا کہ عرب صدق دل سے جانتے تھے خدا ایک ہے۔کذب ثابت ہوا۔دوسرا۔دوسرا دعوی مکذب کا یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے والد کا نام عبداللہ تھا حالانکہ وہ مکہ کا پوجاری تھا۔اول عبد اللہ آپ کے والد کو مکہ کا پوجاری کہنا دعویٰ بے دلیل ہے۔دوم ایسا نام رکھنے سے کیونکر واضح ہوا کہ عرب والے اللہ تعالیٰ خَالِقُ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَات کے سوا کسی کو اللہ کی مخلوق میں سے اللہ نہیں جانتے تھے؟ اور نیز یہ کہ عامہ عرب مشرک نہ تھے اور موجودات کی پوجا نہیں کرتے تھے۔اگر اس نام سے خواہ خواہ توحید کے ثبوت وجود کو مان لیں تو اتنا ثابت ہوگا کہ آپ کا دادا بت پرست اور مشرک نہ ہو۔خواہ مخواہ کا لفظ میں نے اس لئے بولا ہے کہ بت پرست مشرک تو لے اور وہ حیران ہوئے کہ انہی میں سے ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا اور ان منکروں نے کہا۔یہ جھوٹا جادوگر ہے۔دیکھو اس نے متعدد معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا۔یہ تو اچنبھے کی بات ہے۔اور ان کے سردار یہ کہتے ہوئے (انہیں) چلے کہ چلو اپنے معبودوں پر پکے رہو۔کیونکہ یہ ایک بات ہے جس کا منشا کچھ اور ہے ہم نے پچھلے دین میں یہ بات نہیں سنی یہ تو کچھ گھڑت سی معلوم ہوتی ہے۔ے اور وہ کہتے ہیں ہماری دنیا کی زندگی ہے ( یہیں) ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے انہیں اس بات کا کچھ بھی علم نہیں وہ تو بس انکلیں دوڑاتے ہیں۔