تصدیق براھین احمدیہ — Page 168
تصدیق براہین احمدیہ ۱۶۸ گے۔جتنی بندگی اور عبودیت کامل ہوگی اتنا ہی الوہیت کا میل اس سے زیادہ ہو گا۔اور بقدر ترقی عبودیت روح القدس کا فیضان ہوتا۔تا ہے۔لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا أَبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ أُولَيكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلة: ۲۳) یادر ہے یہی تو حید اور تثلیث کا مسئلہ تھا جس کو عیسائی نہ سمجھ کر شرک میں گرفتار ہو گئے۔اور یہی وہ بھید ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء اور رسل اور اولیا کے باہمی تعلق کے باعث فیضان روح کا پتا لگ سکتا ہے۔طالب صداقت کچی ارادت سے چند روز بحضور مرز اصاحب حاضر ہوکر استقلال وصبر سے منتظر ہو اور دیکھ بھی لے۔عرب کا دستور تھا جب دو آدمی با ہم اتحاد پیدا کرتے اور معاہدہ کر لیتے تو دونوں اپنی اپنی کمانیں اس طرح ملاتے کہ ایک کی کمان کی لکڑی دوسری کی کمان کی لکڑی سے از ابتدا تا انتہا ایک سرے سے دوسرے سرے تک ملائی جاتی۔اور ایک کمان کی تار دوسری کمان کی تار سے ملائی جاتی تب دونوں قوسوں کے دو قاب ایک قاب کی شکل دکھلائی دیتے۔پھر دو کمانوں کو اس طرح ملا کر دونوں معاہدہ کنندے ایک تیر، ان دونوں کمانوں مگر اب ایک ہوگئی ہوئی کمان میں رکھ کر چھوڑتے اور یہ رسم عرب کے اس امر کا نشان ہوتا تھا کہ اس وقت کے بعد ایک کمان والے کا دوست دوسرے کمان والے کا دوست ہوگا اور ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن قرار پائے گا۔اسی طرح انبیاء اور رسولوں کی پاک ذات کا خاصہ اور ان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ پاک گروہ اور ان کے اتباع مگر گرویدہ اتباع الحُبُّ لِلهِ اور الْبُغْضُ فِی اللہ میں منفرد ہوتے ہیں اپنے ہر ایک اعتقاد اور قول اور فعل میں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی رضا مندی کو مقدم رکھتے ہیں اسی کے بلائے سے بولتے اور اسی کے چلائے سے چلتے ہیں۔ان کا رحم اور ان کا غضب اللہ تعالیٰ کا رحم اور اللہ تعالیٰ کا غضب ہوتا