تصدیق براھین احمدیہ — Page 164
تصدیق براہین احمدیہ ۱۶۴ قرآن کریم کسی مطلب پر قسم کو بیان کرتا ہے وہاں جس چیز کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے۔وہ چیز قانون قدرت میں قسم والے مضمون کے واسطے ایک قدرتی شاہد ہوتی ہے۔اور یہ قسم قدرتی نظاروں میں اپنے مطلب کی مثبت ہوتی ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوگا۔مثلاً اِنَّ سَعْيَكُو لَشَی الخ (اليل : ۵) ایک مطلب ہے جس کے معنی ہیں۔”لوگو! تمہارے کام مختلف ہیں اور ان کے نتائج بھی الگ الگ ہیں، قرآن مجید اس مطلب کو قانون قدرت سے اس طرح ثابت کرتا ہے وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَى وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى (اليل: ۲ تا ۴) کیا معنی؟ رات پر نظر کرو جب اس کی کالی گھٹا چھا جاتی ہے پھر دن پر نظر ڈالو جب اس نے اپنے انوار کو ظاہر کیا۔پھر مرد اور عورت کی خلقت اور بناوٹ پر غور کرو۔اور ان کے قدرتی فرائض اور واجبات کو سوچو تو تمہیں صاف طور پر عیاں ہوگا کہ بے ریب تمہاری کوششیں الگ الگ اور ان کے نتائج علیحدہ علیحدہ ہیں۔ایسے ہی باری تعالیٰ کے نام جان و مال کو دینے اور نافرمانیوں سے بچنے والا اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا مصدق اور اس کے مقابل جان اور مال سے دریغ کرنے والا نا فرمان اور اعلیٰ درجہ کی نیکی کا مکذب بھی الگ الگ ہیں اور الگ نتیجہ حاصل کریں گے۔ہمارے پاک ہادی، سرور اصفیا، خاتم الانبیاء کی اثبات نبوت اور آپ کی عظمت اور بڑائی ثابت کرنا بڑا احقاق حق اور آپ کے منکروں کو ملزم کرنا بڑا ابطال باطل تھا۔قرآن کریم نے اس احقاق حق اور ابطال باطل پر پر زور دلائل دیئے ہیں۔ان دلائل کا بیان اس جگہ موزوں نہیں البتہ ان براہین میں سے اس والنجم کے پہلے رکوع میں احقاق حق اور ابطال باطل کا ایک ثبوت ہے۔اور قبل اس کے کہ حضور علیہ السلام کی صداقت اور راستی اور سچائی کو ثابت کیا جاوے۔نفس نبوت اور مصلح کی ضرورت کو قرآن میں والنجم کا لفظ فرما کر باری تعالیٰ نے ثابت فرمایا ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے۔عرب ایک ایسا جزیرہ نما تھا جس میں علی العموم پانی کی قلت تھی اور اس کے ملک حجاز میں بخصوص