تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 150

تصدیق براہین احمدیہ ۱۵۰ مگر انسانی فوائد کے لئے اتنے قلیل نقصان کا ارتکاب منکرین ذبح بھی کرتے ہیں۔چنانچہ وہ دودھ کی خاطر جانوروں کے ننھے ننھے شیر خوار بچوں کو باندھ کر ایسے تمتعات سے روک دیتے ہیں۔ذبح پر یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ ذبح میں بے جرم جانور کو سخت سے سخت تکلیف پہنچائی جاتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے۔خدا کی کمزور مگر نہایت پیاری مخلوق انسان کے بہت سے کام حیوانات کی تکلیف پر موقوف ہیں۔گوشت کھانے کے منکروں کے ملک میں زراعت کے تمام کاروبار حرفت اور تجارت پر نظر کرو۔یہاں کیا غالب عمرانات کے اکثر کام حیوانات کی تکلیف پر موقوف ہیں۔اسی واسطے باری تعالیٰ نے حیوانات کی بناوٹ اور ان کے طبعی قوالی میں جیسی مضبوطی رکھی ہے۔ان کے نفسانی قوای اور ادرا کی طاقتوں میں ایسا استحکام نہیں رکھا۔حیوانی مسکن اور حیوانی لباس اور حیوانی خوراک اور حیوانی عیش و آرام پر نظر کرو۔پھر انسانی محل ، قصور اور اقسام اقسام کے لباسوں ، کپڑوں اور انواع اطعمہ لذیذ اور فرحت افزا منظروں کو دیکھو اس قانون قدرت کے نظارے سے صاف عیاں ہے کہ ذبح کے آلام سمجھنے میں بھی ان کے قومی ایسے ہی کمزور اور ضعیف ہیں۔جیسے اور ادرا کی قوای۔حیوانات کا ذی روح ہونا اس امر پر راہ نمائی نہیں کرتا کہ ان کے قوائے نفسانیہ بھی قوی ہوں۔دیکھو آدمی کا جگر اورشش با وجود ذی روح کے اعضاء اور قومی الا دراک انسان کے اجزا ہونے کے بالکل بے حس ہیں اسی طرح بعض حیوانی قوی کی حدت حیوانات کی عام ذکاوت کی مستلزم نہیں۔دیکھو اکثر حیوانات بدوں وحشت اور اضطراب کے ذابح کے پاس کھڑے رہتے ہیں۔رحم ایک قلبی حالت ہے ایسے ہی قہر بھی ایک جبلی صفت ہے یہ دونوں صفتیں کسی نہیں ہوتیں۔ہاں کبھی سوسائٹی اور تعلیم سے ان میں کمی اور زیادتی ہوا کرتی ہے۔گو وہاں اصل اور عرض کا فرق ضرور رہتا ہے۔مگر اس سے دونوں افراط اور تفریط کی جانبین کسی عام حکیمانہ قانون کے باعث نہ ہوں گی۔ظالم تخلق آزار یا عقرب اور مارخونخوار پر رحم کرنا ظلم ستمگار سے ہرگز کم نہیں۔نکوئی با بداں کر دن چنان است که بد کردن بجائے نیک مرداں