تصدیق براھین احمدیہ — Page 149
تصدیق براہین احمدیہ ۱۴۹ بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلا دینا۔اور اختیاری کی مثال لذیذ میوہ جات کا استعمال کرنا۔اضطراری تمتع اور لابدی استلذاذ کی محرومی اور ان کا دفع ہونا دوطرح ہوتا ہے۔اول دفع رنج اور مصیبت اس طرح پر کہ رنج اور مصیبت کا ہی استیصال کیا جاوے۔دوم۔صورت یہ ہے کہ رنج اور مصیبت کو باقی رکھ کر رنج زدہ کو آرام سے روکا جاوے۔اول کی مثال خارش والے مریض کا مرض کسی طرح دور کیا جاوے اور اسے خارش کی دوائی کھانے سے محروم رکھا جاوے۔اس طرح مرض کا دور کرنا اور مریض کو دوائی سے محروم رکھنا کوئی جرم نہیں اور نہ کوئی ظلم ہے بلکہ مریض پر پرلے درجہ کا احسان ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ خارش والے مریض کے مرض کو باقی رکھ کر خارش کی دوائی کے استعمال کرنے سے محروم رکھا جاوے یا کھجلانے سے روکا جاوے۔یہ قسم البتہ ظلم ہے اب غور کرو۔حیوانات کے تمتعات اضطراری ہیں یا اختیاری۔ظاہر ہے کہ حیوانات کے تمتعات کیا ہیں۔یہی کھانا، پینا، بول و براز کرنا اور نفس لینا اور یہ اقسام ظاہر ہے کہ بالکل اضطراری ہیں۔پس حیوانات کو بند کر کے ایذا دینا ظلم ہوگا اور بے انصافی ہوگی کیونکہ جانوروں کو اس صورت میں ان کے ضروری تمتعات کھانے پینے سے محروم رکھا جاتا ہے اسی واسطے جناب رحمة للعالمین (فداه ابی و امی و نفسی و مالی) نے فرمایا ہے۔امَرَاةٌ دَخَلَتِ النَّارَ فِي هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ أَطْعَمَتُهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب (۵۴) حیوانات کو ذبح کر دینا اور ان کے مادہ اضطرار کو ہی قطع کرنا ظلم نہ ہوگا۔یادر ہے ذبح میں قلیلہ تمتعات (مثلاً جانوروں کا کو دنا پھاندنا ) کا ابطال ضرور ہوتا ہے۔ے ایک عورت ایک بلی کے بدلے جہنم میں داخل ہوئی جسے اس نے بند کر کے کھانے پینے سے محروم کر دیا وہ بیچاری حشرات الارض ہی کھاتی۔