تصدیق براھین احمدیہ — Page 144
تصدیق براہین احمدیہ ۱۴۴ دیا نند نے اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھا ہے کہ الفاظ کے مختلف معانی میں مناسب معنی لینے چاہیئے۔ستھیار تھے۔نمبر ۲ آپ اگر اس دیا نندی فقرہ پر ایمان رکھتے ہیں تو انصاف سے غور کریں کہ ان الفاظ میں کیا قباحت رہی ؟ اس منتر کی نویں فضیلت میں مکذب نے پھر باری تعالیٰ کے لئے پوتر تا کا بیان چھیڑا ہے اور میں لکھ چکا ہوں کہ قرآن نے کلمہ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السّلام میں باری تعالیٰ کی صفات کاملہ پوتر تا اور شدھی کا کامل بیان کر دیا ہے۔اور اس فضیلت میں مکذب نے پھر دعا کی طرف ناظرین کو توجہ دلائی ہے اور اتنا نہیں سوچا کہ صانع عالم کے وجود پر دلائل لانا اور گم کردہ راہ دہریہ کے آگے وجود باری کو ثابت کرنا اور بات ہے اور دعا مانگنا اور، یہ بتانا کہ دعا کس طرح مانگی جاوے اور بات۔اس مقام پر صانع کی ہستی پر دلائل لانے واجب تھے نہ دعائیں سکھانا۔اگر دعاؤں کی عمدگی سے دہریہ پر حجت قائم ہو جاتی ہے تو قرآنی دعا سن لو جو تمام عمدہ مطالب پر حاوی ہے اور اگر تحقیق کی نگاہ سے دیکھی جاوے تو ہر قسم کی انسانی دعاؤں سے بالا تر ہے۔اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة: ٧،٦) رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً (البقرة: ٢٠٢) اس میں پھر لکھا ہے عید کے بکرے اور بھیڑیں تیری خوراک نہیں اور خون تیرے حضور نہیں پہنچتا۔العجب !ثم العجب! کیا یہ فقرہ جس کو آپ نے لکھا ہے کسی ویدک منتر کا ترجمہ ہے؟ کیا یہ آپ کا یا کسی اور انسان کا ایجادی فقرہ ہے؟ نہیں نہیں۔ہرگز نہیں۔یہ تو قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ ہے۔اور وہ آیت یہ ہے۔لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج: ۳۸) لے اے ہمارے رب ہم کو اس زندگی میں نیکی دے اور آنے والی زندگی میں بھی نیکی عنایت فرما۔اللہ کوان کا گوشت اور لہو نہیں پہنچتا لیکن اسے تو تمہاری (صفت) تقویٰ ( خداترسی ) پہنچتی ہے۔