تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 143 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 143

تصدیق براہین احمدیہ ۱۴۳ فرمایا ہے۔وهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ (الانعام: 19) کیا تمہارے یہاں اسے سرب شکستیمان سوامی نہیں کہا گیا ؟ پس اسے الْقَاهِرُ کا ہم معنی سمجھ لو۔جبر کے معنی اصلاح کرنا سنوارنا۔الجَبَّارُ کے معنے وہ بڑا اصلاح کرنے والا اور سنوار نے والا۔پس اس معنی پر اللہ تعالیٰ کا نام ہوا الْجَبَّارُ ہم ہزاروں طرح سے اپنی صحت کا بگاڑ کرتے ہیں۔مگر اس معنی بارگاہ میں ہماری اصلاح کے سامان پہلے ہی سے علیم وخبیر خدا نے کر رکھے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ یقینا ہماری کرتوتوں سے پہلے ہی واقف تھا۔دیکھو عربی زبان کے الفاظ بولنے والے طبیب اس بندھن کو جوٹوٹی ہوئی ہڈی پر ہڈی کی اصلاح کے واسطے باندھتے ہیں جبیرہ کہتے ہیں۔یہ لفظ اسی مادہ جبر سے نکلا ہے جس سے جبار نکلا ہے۔اور جبر نقصان تو عام لکھے پڑھے لوگوں میں مشہور ہے جس کے معنے نقصان کی اصلاح کے ہیں۔مسکر کے معنی تدبیر اور بار یک تجویز کے ہیں اور فریب کی سزا دینے کو بھی عربی میں مسکر کہتے ہیں۔حیلہ کا لفظ بھی عربی میں لفظ مکر کے ہم معنی ہے اور گید بھی یہی معنے رکھتا ہے اور گید کے معنے جنگ اور تدابیر جنگ کے بھی ہیں۔لے عداوت ایک تاریک بخار ہے جو دل و دماغ کو مکدر کر کے صفات حسنہ سے انہیں محروم کر دیتا ہے عیسائیوں نے محض حسد سے ان الفاظ ( مکر، کید) کو اعتراض کا نشانہ بنا رکھا ہے اور قرآن کریم کی ان آیات پر حقارت آمیز نگاہ ڈالتے ہیں کہ تو رات و انجیل میں ایسے محاورات بکثرت موجود ہیں عربی اور عبری محاورات قریب قریب ہونے کی وجہ سے لازم آتا تھا کہ وہ قرآن کریم کی مصطلحات کی صداقت کا اعتراف کرنے میں پس و پیش نہ کرتے مگر ضد نے ان کی بصیرت کو دھندلا کر دیا۔ہمارے دیا نندی بھائیوں نے بھی حق پوشی میں انہی اگیانی لوگوں کے اقتدا کو ضروری سمجھا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ ایک بولی کا لفظ جب اپنی اصلی زبان سے دوسرے ملک میں دوسری زبان میں منتقل ہوتا ہے اس کا منشاو مفہوم اصلی دوسرے ملک کے مذاق کے قالب میں ڈھل جاتا ہے مکر، گید ملٹری ٹرمس ( فوجی اصطلاحیں) ہیں قرآن کریم کی یہ آیتیں ان الفاظ کی پوری تشریح کرتی ہیں وَإِذْ يَمْكُرُبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتَوكَ اَو يَقْتُلُوك أو يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ - وَاللهُ خَيْرُ المُكِرِينَ (الانفال: (۳۱)۔جب بے ایمان تیری نسبت خفیہ تدابیر کر رہے تھے کہ تجھے قید کر لیں یا جلا وطن کریں یا مار ہی ڈالیں اور وہ تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ بھی بچا کر نکال لے جانے کی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ کی تدبیر آخر غالب ثابت ہو گئی۔اب عرب کی ناشکر گزار قوم کی اس بدسگالی اور خفیہ سازشوں کو جو آنجناب صلعم کی نسبت کرتے تھے اور ان کی اختلاف آرا کو لفظ مکر سے ظاہر کیا ہے خود حل بتائے دیتا ہے کہ اس لفظ کا معنی کیا ہے۔دوسری آیت جناب ابراہیم کی نسبت ہے جہاں فرمایا ہے وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْآخَرِينَ (الانبياء (1) انہوں نے اس کو ضرر پہنچانا چاہا پر ہم نے انہیں کو ذلیل کیا۔وہ جناب ابراہیم کو آگ میں ڈالنا چاہتے تھے اور اس ارادہ میں باری تعالیٰ نے انہیں نا کامیاب رکھا اسی کو لفظ کید سے تعبیر فرمایا ہے۔عبدالکریم